انوارالعلوم (جلد 6) — Page 20
کرنے لگے اور نفع ان کو دیتے تھے اور وہ کچھ معاوضہ آپ کو دیدیتی تھیں۔عرب میں کوئی حکومت نہ تھی۔مگر مکّہ والوں نے جو ’’دارالندوہ‘‘ قائم کر رکھا تھا، اس کے بھی آپ ممبر نہ تھے۔دنیاوی علوم آپؐ نے حاصل کئے تھے۔آپ کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا اس تمام ضعف اور کمزوری پر طرفہ یہ کہ جب آپؐنے دعویٰ کیا تو تمام عرب مخالف ہوگیا۔آپ وہ بات کہتے تھے جو جمہور عرب کے خلاف تھی اور عرب اس کو ماننے میں اپنی ہلاکت دیکھتے تھے۔آنحضرت ﷺاور مسٹر گاندھی دنیا میں بڑے بڑے فاتح ہوئے ہیں جن کے ساتھ لوگ چل پڑے۔مثلاً آج ہمارے ہندوستان میں مسٹر گاندھی ہی ہیں ان کی جَے کے نعرے بھی آج ہندوستان میں لگائے جاتے ہیں ممکن ہے کوئی کہدے کہ آنحضرت کے ساتھ اگر دُنیا ہوگئی تو کیا ہوا۔مسٹر گاندھی کے ساتھ بھی تو لوگ ہو ہی گئے ہیں۔اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسٹر گاندھی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔کیونکہ آنحضرت عرب سے وہ بات منوارہے تھے جو عرب ماننے کے لئے تیار نہ تھا۔مگر مسٹر گاندھی وہ بات کہتے ہیں جس کا مطالبہ خود ہندوستان کر رہا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ کسی زمیندار کےپیٹ میں درد ہونے لگا۔کسی نے کچھ علاج بتلایا کسی نے کچھ ایک شخص نے جو زمینداری کا ایک اوزار لئے کھراتھا کہا کہ اس کو گُڑ گھول کر پلادو۔مریض نے جب یہ بات سُنی تو کہا کہ ہائے اس کی بات کوئی نہیں سُنتا۔تو وہ بات جو مسٹر گاندھی کہہ رہے ہیں لوگوں کے مطلب کی اوران کی منشاءکے مطابق ہے اس لئے ا کو ماننے کیلئے تیار ہیں۔ایک اور مثال ہے جو اگر چہ فرضی ہے مگر حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ایک بزرگ نے لکھا ہے ایک اونٹ کہیں جارہا تھا۔آگے سے چوہا ملا اس نے اونٹ کی مہار پکڑ لیں اورجدھر اونٹ جارہا تھا ادھر ہی چل پڑا۔تھوڑی دور جاکر چُوہےنے خیال کیا کہ میں ہی اس کو چلا رہا ہوں۔آخر ایک دریا پر پہنچے اور وہاں اونٹ رک گیا چوہے نے کہا چل اس نے کہا نہیں چلتا۔جب تک میرا دل چاہا چلا۔اب دل نہیں چاہتا میں نہیں چلونگا۔تو چونکہ ان لیڈروں کی زبان سے وہی نکل رہا ہے۔جو لوگ چاہتے ہیں اس لئے اگر لوگ ان کے پیچھے چل رہے ہیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کے چڑھا ووں کی حفاظت کی فکر نہیں کی۔ان کے بُتوں کی حفاظت نہیں کہ جن پر چڑھاوے چڑھتے تھے اور جن سے ان کی گذر اوقات ہوتی تھی۔بلکہ آپ نے ان کے اس چڑھاووں کے رزق کو بند کردیا اور کہدیا کہ ان خداؤں کو چھوڑ واورایک خدا کو مانو۔پس مسٹرگاندھی