انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 18

کی تحقیق سب سے پہلے کرنی چاہئےاور اگر نہیں تو ہندو مسلمان یا سکھ عیسائی موسائی وغیرہ کے جھگڑے فضول ہیں۔مذہب کی ضرورت کیا ہے؟ پس اگر کوئی سوال سب سے پہلے حل کرنے کے قابل ہے تو یہی کہ مذہب کی ضرورت کیا ہے اور ہم کسی مذہب کو کیوں مانیں۔اس کے متعلق میں سب سے پہلے ہر ایک مذہب کےشخص کو یہی نصیحت کروں گا وہ غور کرے کہ وہ جس مذہب یا پابند ہے کیوں وہ اس کو مانتا اور دوسرے مذاہب کی تکذیب کرتا ہے؟ ہر ایک مذہب کے آدمیوں کو چاہئے کہ وہ غور کریں اور غور کرنے کے بعد جس مذہب کو سچا پائیں اس کو قبول کریں۔اور جس کو سچا نہ پائیں خواہ وہ پہلے اسی کی طرف منسوب ہوں اس کو ردّ کریں۔مَیں نے چونکہ اس مسئلہ پر خود غور کیا اور اسلام میں بمقابلہ دیگر مذاہب کے خوبیاں پائیں اور میں نے معلوم کیا کہ مذہب کی غرض کو یہی مذہب پورا کرتا ہے اس لئے مَیں نے اس کو قبول کیا اِ س لئے میں اس کی طرف سے کھڑاہوا ہوں۔مَیں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے نزدیک ہر مذہب کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنا دعویٰ اور دلائل خود پیش کرے۔یہ نہیں کہ دعویٰ وہ کرے اور دلیلیں کہیں اور سے اس کیلئے لائی جائیں۔خدا اپنی ذات اور اپنے رُسولوں کو خود منواتا ہے اگر خدا ہے تو اس پر حق ہے کہ وہ اپنی صفات آپ ظاہر فرمائے اور ہم سے اپنی ذات منوائے اسی طرح اگر وہ کہتا ہے کہ فلاں شخص اُس کا رسول ہےتو وہ دلائل اس کو دے جس کےذریعہ سےہم اُس کو مانیں اور اسی طرح دیگر مسائل کےلئے ہے کہ وہ خود بتائے۔اسلام کا دعویٰ پس اس عقیدے کے مطابق میں اسلام کی صداقت کے دلائل قرآن کریم کے ہی بتائے ہوئے بیان کروں گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسلام خدا کی طرف سے ہے اور اس لئے اس کی صداقت کے دلائل خود پیش کرتا ہے۔چنانچہ یہ رکوع جو مَیں نے پڑھا ہے اس میں اللہ فرماتا ہے۔اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (النور:۳۶)کہ اللہ آسمان و زمین کا نُور ہے۔اس کے نُور کی مثال ایسی ہے کہ جیسا کہ ایک طاق ہو۔اور اس کے پیچھے کوئی سوراخ نہ ہو۔اس کے اندر چراغ ہو۔ایسے طاق کے چراغ کی روشنی ایک طرف پڑتی ہو۔اس سے روشنی محفوظ ہو کر جدھر پڑتی ہے بہت زیادہ پڑتی ہے اور چراغ ایک گلوب سے ڈھکا ہوا ہے اورگلوب بھی نہایت صاف اور مجلّی ہے جس سے روشنی اوربڑھ جاتی ہے اور اس کی روشنی تارے