انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 4

مذہب سے لاپرواہی کی وجہ میرے نزدیک مذہب سے لاپرواہی کی وجہ یہ ہے کہ مذہب پر غور کرتے ہوئے محدود نظر سے کام لیا جاتا ہے۔لوگ ایسے کام تو کرتے ہیں۔جو بظاہر ان کے لئے مال حاصل ہونے کا ذریعہ نظر آتے ہیں لیکن مذہب میں چونکہ یہ بات نظر نہیں آتی اس لئے گو اس کو مانتے ہیں مگر محض اس لئے کہ وہ ماں باپ سے سُنتے ہیں پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ مذہب کے لئے بہت دفعہ ان کو مال قربان کرنا پڑتا ہے اس لئے اس زمانہ میں کہ لوگوں کی طبیعتیں مادیت کی طرف مائل ہیں مذہب سے متنفر ہوجاتے ہیں۔لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مذہب میں فائدہ نہیں۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ مذہب کو استعمال ہی نہیں کیاجاتا۔یا اگر استعمال کیاجاتا ہے توغلط طریق سے۔پس جب مذہب کو استعمال ہی نہ کریں اوراپنی ناواقفیت اورنادانی سے اسے چھوڑ بیٹھیں تو اس کا فائدہ کیا ہو۔عقلمندی یہ ہے کہ جس چیز کا فائدہ ثابت ہو اُسے ضرور استعمال کرنا چاہئے۔دیکھو بہت سی اشیاء تھیں جن کا استعمال کرنا لوگوں نےچھوڑ دیا تھا۔مگر جب سائنس نے ان کا فائدہ ثابت کردیا تو ان کو قبول کرلیا گیا۔چنانچہ ہم طبّ میں ہی دیکھتے ہیں کہ اسپغول یونانی اطبّاء مُدتوں سےاستعمال کرتے تھے اور پیچش میں مفید بتاتے تھے مگر ڈاکٹروں نے اس کے ان فوائد کا انکار کردیا۔لیکن جب ان کو فوائد معلوم ہوئے تو انہوں نے دوبارہ استعمال شروع کردیا۔جو لوگ مذہب پر عمل کرتے ہیں مگر ان کے عمل کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا ان کا طریق عمل غلط ہوتا ہے۔تا ہم وہ اگر چھوڑتے ہیں تو کہا جاسکتا ہے کہ اپنی طرف سے کوشش کرنے کے بعد انہوں نے چھوڑا ہے لیکن جو لوگ مذہب کو غلط جان کر اس کا انکار نہیں کرسکتےوہ قابلِ عزت نہیں ہوسکتے۔اوراگر دیکھا جائے تو ایسے ہی لوگ بکثرت اہلِ مذاہب میں پائے جاتے ہیں۔طریق استعمال کو دیکھنا چاہئے پس کسی چیز کے متعلق یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کا طریق استعمال تو غلط نہیں۔اگر صحیح طریق کے باوجود نتیجہ بُرا نکلے تو وہ چیز خراب ہے اور اگر غلط طریق استعمال سے بُرا نتیجہ ہو تو وہ چیز بُری نہیں ہوگی۔دیکھو کونین موسمی بخار میں مفید ہے۔لیکن اگر محرقہ بخار میں دیکر اس کی خوبی کا کائی انکار کرے تو وہ غلطی کرتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں ہمارے ملک میں بہت سی چیزوں کو ردّی سمجھ کر ضائع کیا جاتا تھا، مگر یورپ نے ان سے فوائد اُٹھائے ہیں۔چنانچہ ہندوستان میں بانس کے جنگل ہوتے ہیں جو کہ ضائع ہی جاتے تھے لیکن یورپ نے بانس سے کاغذ بنایا اور عمدہ طریق سے استعمال کرکے فائدہ اُٹھایا۔