انوارالعلوم (جلد 6) — Page 5
کارخانۂ عالم کا انتظام منتظم کو چاہتا ہے اب ہم انسان کو حالت پر غور کرتے ہیں کہ کیا یہ ایسا ہے جیسا سمندر میںحباب اور حباب میں مختلف رنگ جو فوراً مِٹ جاتے ہیں۔پھر اس کے علاوہ اور عالم ہیں دیگر ستاروں کے متعلق تو یقینی تحقیق نہیں مگر MORS(مریخ) کے متعلق خیال ہے کہ اس میں آبادی ہے۔انسان کے متعلق جب ہم خیال کرتے ہیں تو اس کی پیدائش لغو معلوم نہیں ہوتی اور پھر اس کے لئے جو سامان ہیں وہ کیسے اکمل اورابلغ ہیں۔ابھی کچھ عرصہ ہوا دُمدار ستارے کے متعلق ایک امریکن ہیئت دان نے شائع کیا تھا کہ وہ زمین سے ٹکرائے گا اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگی۔اس خیال سے بہت سے لوگوں نے یورپین ملکوں میں خود کُشیاں کرلی تھیں۔بعض نے کہا کہ ٹکرائے گا نہیں مگر ایسی گیسز پیدا ہونگی جن سے دَم گھُٹ جائیں گے۔لیکن وہ دن آیا اور گذرگیا۔معلوم ہوا وہ ایسے خفیف ذرّے تھے کہ زمیں پر ان کا کچھ اثر نہ تھا۔دیگر ستاروں کے متعلق بھی مانا جاتا ہے کہ جب وہ زمین کے برابر آتے ہیں تو فورآٍ اپنا رستہ بدل لیتے ہیں۔پس یہ تغیرات بتاتے ہیں کہ اتفاقی نہیں بلکہ کوئی ہستی ہے جو اپنے ارادے کے ماتحت تغیرات کرتی ہے۔فرض کرو کوئی اینٹ گری پڑی ہو۔اس کے متعلق خیال کیا جاسکتا ہے کہ اتفاقاً گر گئی ہے۔ہوانے گرادی۔مگر عمارت کے متعلق یہ نہیں کہا جائیگا کہ اتفاقاً تیار ہوگئی ہے۔یا اگر کہیں سیاہی گر جائے تو ممکن ہے کہ اس سے آنکھ کی سی شکل بن جائے مگر یہ ممکن نہیں کہ آنکھ بنے۔ناک چہرہ اور انسان کی مکمل تصویر سیاہی گرنے سے ہی بنے اورپھر انسان کے غم یا خوشی کی علامات بھی اس سے ظاہر ہوں۔اگر انسان کی ایسی تصویر ہوگی تو اس سے پتہ لگے گا کہ کسی ہوشیار مصور کی کاریگری ہے۔اب دیکھو آنکھ پیدا کی گئی ہے تو اس کے لئےلاکھوں کوس کے فاصلہ پر سُورج بنایا گیا ہے۔اسی طرح معدہ بنایا گیا ہے۔تو وہ چیز یں بھی بنائی گئی ہیں جن سے وہ پُر ہوتا ہے۔ان انتظامات سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مدبِّر بالا رادہ ہستی کے ماتحت یہ کارخانہ اپنا کام کررہا ہے اور یہ اتفاق نہیں ہے۔پس دنیاکی تدوین بتاتی ہے کہ اس کا پیدا کرنیوالا کوئی ہے اور پیدا کرنے میں اس کی کوئی غرض ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ اس نے پیدا کرے یونہی چھوڑ دیا۔اتفاق کے معنی ہوتے ہیں جس کام میں سلسلہ نہ ہو لیکن جس میں سلسلہ ہو وہ اتفاق نہیں کہلاتا۔مذہب کی ضرورت کا احساس کس طرح ہوسکتا ہے پس انسان کی پیدائش کی غرض ہے اور مذہب انسان کے فائدےکیلئے ہے مگر بہت سے فوائد محسوس نہیں ہوتے۔مثلاً جب ریل نہ تھی تو ہمیں اس کی ضرورت بھی