انوارالعلوم (جلد 6) — Page 3
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَـــــــــــــــــــلٰے رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ضرورتِ مذہب (فرمودہ ۵؍مارچ ۱۹۲۱ء) ۵؍مارچ کو لاہور میں جن طلباء کالج نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سےملاقات کی۔ان کی طرف سے یہ سوال پیش کیا گیا کہ مذہب کی کوئی ضرورت نہیں نہ اس سے کوئی فائدہ ہے۔ہاں لوگ اگر اس کو بعض ظاہری فوائد حاصل کرنے کے لئے اختیار کرلیں تو بُرا نہیں۔اس کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ ضرورت دو ۲ طرح کی ہوتی ہے (۱) چیز میں ذاتی فوائد انسان کے لئے ہوتے ہیں۔وہ خیال کرتا ہے کہ مجھے اس کے قبول کرنے میں کچھ فائدہ ہوگا۔(۲) اپنے نفع کا خیال نہیں ہوتا۔محض اس چیز کی ذاتی خوبی ہوتی ہے۔جیسے ماں باپ کا تعلق۔جوان ہوکر انسان ان کی خدمت کسی فائدہ کے خیال سے نہیں کرتا۔جو کچھ اُسے لینا ہوتا ہے وہ تو پہلے ہی لے چُکتا ہے۔اس وقت ان کی خدمت کسی فائدہ کے لئے کی جاتی۔بلکہ محض ان کے ماں باپ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔اوربعض باتوں میں اخلاق کا خیال ہوتا ہے۔اب ہم مذہب کے متعلق دیکھتے ہیں کہ اوّل اس سے ہمیں کیا فائدہ ہے۔دوم یہ کہ ہمارے لئے اس میں کوئی ذاتی کشش ہے؟ جب ہم یہ دیکھتے ہیں تو مذہب میں یہ دونوں باتیں پاتے ہیں۔یعنی ای تو اس میں ہمارے لئے موجودہ اور آئندہ کے فوائد ہیں اور دوسرے اس میں ذاتی دلکشی اور خوبیاں بھی ہیں جن کی وجہ سے مذہب سےمحبت ہونی چاہئے۔