انوارالعلوم (جلد 6) — Page 75
ہے۔بلکہ وہ یہی کہے گا کہ چونکہ میں آگ کی گرمی کو جانتا ہوں اور اس کو ہاتھ لگانے سے جلتا ہے اس لئے مَیں یہ ہرگز نہیں مان سکتا کہ یہ آگ نہیں ہے۔ہاں مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ پانی ڈالنے سے کیونکر آگ نکلتی ہے۔انبیاء کی صداقت کا معیار یہی طریق انبیاء کے پہچاننے کا ہے ان کی صداقت کے کئی ثبوت ہوتے ہیں۔ان کےذریعہ صداقت کی تحقیق کرنی چاہئے کیونکہ اگر اس طرح نہ کیا جائےتو کئی ایسی باتیں ہوسکتی ہیں جن کو گمراہ کرنیوالے لوگ پیش کرکے دھوکا دے دیتے ہیں۔لیکن جب انسان صداقت کو صداقت سمجھ کر مانے تو ایسی باتوں سے ٹھوکر نہیں کھاسکتا کیونکہ اوّل تو کوئی شبہ پیدا نہیں ہوتااوراگر پیدا ہو تو انسان اس کے ازالہ کا علم حاصل کرسکتا ہے لیکن صداقت کے دلائل اوربراہین سے واقف ہو اس کے دل میں اگر کوئی لاکھوں شبہات صداقتِ رسول کریم ؐکے متعلق ڈالنا چاہے تو وہ یہی کہے گا کہ مجھے ان کی وجہ معلوم نہیں یا مَیں ان کا جواب نہیں دے سکتا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرسکتا۔کوئی شبہ ہو میرے کمئ علم کا ثبوت ہوگا رسول کریم ؐسچّے ہیں کیونکہ آپ کی صداقت کے ثبوت میرے پاس ہیں۔اب مسلمان کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح جھوٹے ہوسکتے حالانکہ آپ کی صداقت کے ثبوت انہیں معلوم نہیں۔وہ چونکہ باپ داد سے سنتے آئے ہیں اس لئے کہتے ہیں کہ رسول کریمؐسچّے ہیں لیکن ہمارے پاس خدا کے فضل سے رسول کریمؐ کی صداقت کے ثبوت ہیں اوراگر کوئی آپ پر اعتراض کا جواب نہ بھی آئے تو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وآلہٖ وسلم کی صداقت کے متعلق ہمیں شبہ نہیں پڑسکتا کیونکہ ہم نے آپؐ کو اس طرح مانا ہے جس طرح سورج کو مانتے ہیں۔پس اوّل تو خدا کے فضل سے ہر ایک اعتراض کا جواب آتا ہے لیکن اگر فرض کرلیا جائے کہ ہمیں کسی اعتراض کا جواب نہ آئے تو اس کی وجہ سے رسول کریم ؐکی صداقت کا انکار نہیں کیا جائیگا کیونکہ ہم نے آپ کو یونہی نہیں مانا بلکہ آپ کی صداقت کے دلائل کو دیکھ کر مانا ہے اور پورا پورا یقین ہے کہ وہی دلائےل ہیں جو سچّے نبی کے لئے ہوتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب کی صداقت کے دلائل اسی طرح ہم حضرت مرزا صاحب کو مانتے ہیں ان کی صداقت کے لئے نئے دلائل کی ضرورت نہیں بلکہ ان کے لئے وہی دلائل ہیں جو رسول کریمؐ،حضرت موسیٰؑ،حضرت عیسیٰؑ