انوارالعلوم (جلد 6) — Page 76
اور دیگر انبیاء کے تھے۔اب اگر کوئی ان دلائل کے ہوتے ہوئے آپ کو جھوٹا قرار دیتا ہے تو اس طرح پہلے انبیاء بھی جھوٹے ہوجاتے ہیں لیکن جو ان دلائل کی وجہ سے پہلے انبیاء کو سچا سمجھتا ہے وہ حضرت مرزا صاحب کو بھی سچا سمجھے گا۔جب کوئی شخص ان دلائل کو معلوم کرکے اور ان سے واقف ہوکر آپ کو مانے گا تو پھر اس کے دل میں کوئی شبہ نہیں پڑسکے گا۔رسول کریم ؐکو ابوبکرؓ نے کیونکر مانا دیکھئے حضرت ابوبکر ؓنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی دلیل سے مانا ہے اور پھر کبھی ان کے دل میں آپؐ کے متعلق ایک لمحہ کے لئے بھی شبہ نہیں پیدا ہوا اور وہ ایک دلیل یہ تھی کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بچپن سےدیکھا تھا اور وہ جانتے تھے کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔کبھی شرارت نہیں کی،کبھی گندی اور ناپاک بات آپ کے منہ سے نہیں نکلی بس یہی وہ جانتے تھے اس سے زیادہ نہ وہ کسی شریعت کے جاننے والے تھے کہ اس کے بتائے ہوئے معیار سے رسول کریم ؐکو سچا سمجھ لیا، نہ کسی قانون کے پیرو تھے۔انہیں کچھ معلوم نہ تھا کہ خدا کا رسول کیا ہوتا ہے اور اس کی صداقت کے کیا دلائل ہوتے ہیں وہ صرف یہ جانتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کبھی نہیں بولا۔وہ ایک سفر پر گئے ہوئے تھے جب واپس آئے تو راستہ میں ہی کسی نے انہیں کہا کہ تمہارا دوست (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کہتا ہے کہ مَیں خدا کا رسول ہوں۔انہوں نے کہا کیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ کہتا ہے ،اُس نے کہا ہاں۔انہوں نے کہا پھر وہ جھوٹ نہیں بولتا جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے کیونکہ جب اس نے کبھی بندوں پر جھوٹ نہیں بولا تو خدا پر کیوں جھوٹ بولنے لگا۔جب اس نے انسانوں سے کبھی ذرا بد دیانتی نہیں کی تو اب ان سے اتنی بڑی بد دیانتی کس طرح کرنے لگا کہ ان کی رُوحوں کو تباہ کردے۔صرف یہ دلیل تھی جس کی وجہ سے حضرت ابوبکرؓنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مانا اور اسی کو خدا تعالیٰ نے بھی لیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے لوگوں کو کہدو فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُـرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(یونس:۱۷)میں ایک عرصہ تم میں رہا۔اس کو دیکھو۔اس میں مَیں نے تم سے کبھی غداری نہیں کی۔پھر اَب مَیں خدا سے کیوں غداری کرنے لگا۔یہی وہ دلیل تھی جو حضرت ابوبکر ؓ نے لی اور کہدیا کہ اگر وہ کہتا ہے کہ خدا کا رسول ہوں تو سچّا ہے اور مَیں مانتا ہوں اس کے بعد نہ کبھی ان کے دل میں کوئی شبہ پیدا ہوا اورنہ ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش آئی۔ان پر بڑے بڑے ابتلاء آئے انہیں جائدادیں اور وطن چھوڑنا اوراپنے عزیزوں کو قتل کرنا پڑا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم