انوارالعلوم (جلد 6) — Page 479
مگر جناب کو خیال رکھنا چاہئےکہ مذہب اور اہلِ مذہب میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور اسی طرح مقدس کتابوں کے مذہب اور کسی خاص فرقہ کے مذہب میں بھی بعض دفعہ اتنا ہی فرق ہونا ہے جتنا کہ نُور اور ظُلمت میں۔حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں:- ’’یہ خیال مت کرو کہ مَیں تو ریت یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا۔مَیں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں‘‘(متی باب ۵ آیت ۱۷)٭ لیکن باوجود اس کے کہ وہ توریت کی خوبی کو تسلیم کرتے ہیں۔اپنے زمانہ کے فقیہوں اور فریسیوں کی نسبت بیان فرماتے ہیں کہ:- ’’اے ریا کارو ! یسعیاہ نے کیا خوب تمہارے حق میں نبوت کی جب کہا کہ یہ لوگ اپنے منہ سے میری نزدیکی ڈھونڈتے اور ہونٹوں سے میری عزت کرتے ہیں پر ان کے دل مجھ سے دُور ہیں۔‘‘ (متی باب ۱۵آیت ۷،۸نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبویہ ۱۸۷۰۴) اسی طرح وہ ان لوگوں کے حق میں فرماتا ہے کہ :- ’’اے ریا کار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس کہ بیوائوں کے گھر نکل جاتے اور مکر سے لمبی چوڑی نماز پڑھتے ہو۔اس سبب تم زیادہ تر سزا پائو گے۔اے ریاکار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس کہ بیوائوں کے گھر نکل جاتے اور مکر سے لمبی چوڑی نماز پڑھتے ہو۔اس سبب تم زیادہ تر سزا پائوگے۔اے ریاکار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس کہ تم تری اور خشکی کا دورہ اس لئے کرتے ہو کہ ایک کو اپنے دین میں لائو اور جب وہ آچکا تو اپنے سے دونا اسے جہنم کا فرزند بناتے ہو…اے ریاکار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس کیونکہ پودینہ اورانیسوں اور زیرہ کی وہ یکی لگاتے ہو پر شریعت کی بھاری باتوں یعنی انصاف اور رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا۔لازم تھا کہ تم انہیں اختیار کرتے اور نہیں بھی نہ چھوڑتے …اے سانپو اور اور اسے سانپ کے بچو! تم جہنم کے عذاب سے کیونکر بھاگو گے۔‘‘ (متی باب ۲۳ آیت ۱۳ تا ۳۳ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) پھر عوام الناس کی نسبت بتاتے ہیں کہ:- ’’اس زمانہ کے لوگ بد اور حرامکار نشان ڈھونڈتے ہیں۔‘‘ (متی باب ۱۲ آیت ۳۹ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) * نارتھ انڈیا بائبل سوسائی مرزاپور مطبوعہ ۱۸۷۰ء