انوارالعلوم (جلد 6) — Page 478
’’خدا کی مرضی اس کے ہاتھ کے وسیلے بر آوے گی اپنی جان ہی کا دُکھ اُٹھا کے وہ اسے دیکھے گا اور سیر ہوگا۔اپنی ہی پہچان سے میرا صادق بندہ بہتوں کوراستباز ٹھہرائے گا کیونکہ وہ ان کی بد کاریاں اپنے اوپر اُٹھالے گا۔اس لئے مَیں اسے بزرگوں کیساتھ ایک حصہ دوںگااور وہ لُوٹ کا مال زور آوروں کے ساتھ بانٹ لے گا کہ اس نے اپنی جان موت کےلئے انڈیل دی اور وہ گہنگاروں کے درمیان شمار کیا گیا اور اس نے بہتوں کے گناہ اُٹھا لئے اور گنہگاروں کی شفا عت کی۔‘‘ (یسعیاہ باب ۵۳ آیت ۱۰ تا ۱۲ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) اگر وہ جنگ نہ کرتا اور عفو ہی کرتا تو پھر یہ لوگ کہتے کہ اس نے کب لُوٹ کا مال زور آوروں کےساتھ بانٹا کہ اسے ابدی بادشاہت کا قائم کرنے والا ہم مان لیں؟ جیسا کہ ان کے باپ دادوں نے مسیح علیہ السلام کےوقت میں کہا کہ اس کے ساتھ وہ مدد اور نصرت کہاں ہے جو بادشاہوں کیساتھ ہونی چاہئے؟ اورنہ سمجھے کہ بادشاہت صرف زمین کی ہی نہیں ہوتی بلکہ دل کی بھی ہوتی ہےجس طرح آج کل کے لوگوں نے نہیں سمجھا کہ صرف حلم اور عفو ہی اچھی صفات نہیں ہیں بلکہ شریر کو سزا دینا اور مظلوم کو ظالم کے پنجہ سے چھڑانا اور دنیا میں عدل و انصاف کو قائم کرنا بھی صفات حسنہ میں سے ہیں اور کامل وہی ہے جو ان سب صفات کو اپنے موقع پر استعمال کرکے دکھاتا ہے۔غرض اے شہزادہ والا تبار! اللہ تعالیٰ آپ کے دل کو حق کے قبول کرنے کے کھول دے مسیح علیہ السلام کے بعد ایک اور نبی کے بعثت کی بھی خبر تھی۔جس نے موسٰی کے رنگ میں رنگین ہوکر آنا تھا۔پس مسیحؑکی آمد ثانی درحقیقت اسی موسٰی کے نوشتوں کے پورا کرنے کی غرض سے مقدر تھی۔جس طرح پہلے موسٰی کے نوشتوں کو پورا کرنےکے لئے اس کی آمد اوّل تھی۔پس ضرور تھا کہ دونوں سلسلوں میںمناسبت قائم کرنے کے لئے وہ اسی قدر عرصہ مثیل موسٰی کے بعد ظاہر ہو جس قدر عرصہ موسٰی کے بعد وہ اپنی پہلی بعثت میں ظاہر ہوا تھا اور تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمانہ تیرہ چودہ سو سال ہی کا تھا۔پس علاوہ ان علامات کے ظہور کے جو انجیل میں بتائی گئی ہیں یہ بھی ایک دلیل ہے کہ مسیحؑکا ظہور اسی زمانہ میں ہونا چاہئے کیونکہ مثیل موسٰی کو ظاہر ہوئے تیرہ سو سال سے اوپر گزر چکے ہیں۔شاید آپ کے دل میں خیال گذرے کہ اسلام تو ایسی خراب حالت میں ہے مسیح کب اس مذہب میں آسکتا ہے؟ اوراپنے مقدس نام کو اس کی تاریکی کی چادر کےنیچے پوشیدہ کرسکتا ہے؟