انوارالعلوم (جلد 6) — Page 480
اب اے شہزادہ ! دیکھ کہ کیا آج کل کے مسلمان اس موسٰی کی اُمّت سے کسی علیحدہ قسم کے لوگ ہیں کہ ان میں سے مسیحؑپیدا نہیں ہوسکتا؟ یہ کتنے بھی ظالم ہوں ان کے ظُلم سے اسلام کی تعلیم پر کوئی حرف نہیں آسکتا جس طرح مسیحؑ کے زمانہ کے لوگوں کی خرابی سے موسیٰ علیہ السلام اور توریت پر کوئی الزام نہیں آسکتا تھا۔وہ جو تعلیم کے خلاف چلتا ہے اپنا بوجھ آپ اٹھائے گا اوراپنی قبر آپ کھودے گا اس کے اعمال سے خدا کے کلام اور اس کے دین پر کیونکر حرف آسکتا ہے؟ اور وہ جونوشتوں کی ناسمجھی سے ایک نیا عقیدہ بنا لیتا ہے اس کے عقیدوں سے نوشتوں پر کیسے اعتراض پڑ سکتا ہے؟کیونکہ کیا نہیں لکھا کہ صدوق توریت سے ہی قیامت کا انکار نکلاتے تھے؟ اوران کے علماء ایک دفعہ مسیح علیہ السلام کے سامنے بھی اس غرض سے پیش ہوئے تھے تا اس پر اپنے قول کی صداقت کو ظاہر کریں مگر اس نے ان پر حجت کی اور ان کے منہ بند کردئیے۔پس قرآن کریم اور اسلام پر لوگوں کے اعمال اور ان کےغلط عقائد کی بناء پر کوئی زد نہیں پڑسکتی۔اسلام ایک نُور ہے جس کے مقابلہ پر سب ادیان کی شمعیں ماند ہیں اور ایک سُورج ہے جس کے آگے کوئی چراغ اپنی روشنی ظاہر نہیں کرسکتا۔مگر افسوس کہ اپنوں اور بیگانوں نے اس سے منہ پھیر لیا اور اپنی آنکھیں بندکرلیں تا نہ ہو کہ اس کی ضیاء کو ان کی آنکھیں دیکھیں اور اس سے روشنی حاصل کریں۔اس کی مثال اس ہیرے کی سی ہے جسے ایک بچہ ایک جانور کی طرف پھینکتا ہے اور وہ اس سے ڈر کر بھاگ جاتا ہے وہ بچہ اس کو اس لئے پھینکتا ہے کہ وہ اسے حقیر اوربے قیمت جانتا ہے او ر وہ جانور اس سے اس لئے بھاگتا ہے کہ سمجھتا ہے کہ یہ چیز اس نے مجھے صدمہ پہنچانے ہی کے لئے پھینکی ہوگی۔مگر نبیوںؑ کا خدا قدوسوں کا قدوس جو آسمان پر اپنے تخت حکومت پر جلوہ افروز ہے پسند نہیں کرسکتا تھا کہ اس کا بھیجا ہوا نُور اس بے قدری کی نگاہ سے دیکھا جائے۔سو اس نے اپنے پیارے کو بھیجا کہ مسیح ؑناصری کی طرح جس طرح وہ موسٰی کی کتاب کا پورا کرنے والا اور اسے ثابت کر نیوالا بنا یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کا پواکرنےوالا اور اس کا ثابت کرنے والا ہو اوراس کی طبیعت اور اس کی قوت کے ساتھ دنیا میں کام کرکےاس کا نام پائے اورابد الآباد تک خدا کے مسیح ؑکے نام سے یاد کیا جائے تا کہ وہ بات پوری ہوجو کہی گئی تھی کہ:- ’’اب سے تم مجھے پھر نہ دیکھو گے جب تک کہ کہوگے مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پرآتا ہے۔‘‘ (متی باب ۲۳ آیت ۳۹نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) سو وہی اور صرف وہی مسیح علیہ السلام کو دیکھ سکتا ہے جو اس بات پر یقین لائے کہ اس زمانہ