انوارالعلوم (جلد 6) — Page 434
چناچہ خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے وَلِلہِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْہُ بِھا(الاعراف: ۱۸۱)کہ خدا تعالیٰ کے اندر سب صفات حسنہ پائی جاتی ہیں اس لئے جو ضرورت تمہیں پیش آئے ان کےذریعہ اس سے مانگو۔اس آیت سے دُعا کرنے کا بھی یہ نکتہ معلوم ہوگیا کہ جو چیز مانگنی ہو اس کے مطابق جو صفت ہو اس کےذریعہ سے مانگنی چاہئے۔پس صفات کا باریک علم دعا کی قبولیت کا ذریعہ ہوتا ہے اور جو اس علم کا پتہ لگا لیتا ہے اس کی دُعا زیادہ قبول ہوتی ہے اور جو خدا تعالیٰ کی صفات کا سب سے زیادہ علم رکھے گا اس کی دُعائیں بھی سب سے زیادہ قبول ہوں گی۔دُعا کیلئے مناسب صفت کو کس طرح منتخب کرے؟ اگر یہ سوال کیا جائے کہ دُعا کے لئے صفات الٰہیہ کا انتخاب کس اصل پر ہونا چاہئے ؟تو اس کا یہ جواب ہے کہ سب سے پہلے یہ معلوم کرنا چاہئے کہ مثلاً جو تکلیف ہے وہ کیوں ہے؟ اورپھر اس وجہ کو مدّ ِ نظر رکھ کر جس صفت کےذریعہ سے دعا کرنا مناسب ہوگا اس کےذریعہ سے دُعا کی جائے گی۔ظاہری علوم میں بھی اس کی مثال دیکھ لو ایک شخص کے پیٹ میں درد ہوتی ہے تو اسے طبیب کسٹرائل دیتا ہے۔ایک دوسرے کو پیپر منٹ تیسرے کو قے کراتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ گو ہے تو سب کے پیٹ میں ہی درد لیکن سبب مختلف ہیں۔اس طرح انسان سے کوئی ایسا گناہ سرزد ہوجاتا ہے جس کی مناسب سزا اسے مالی تنگی کا پہنچنا ہوتی ہے کبھی اس کی یہ وجہ اس کی سُستی ہوتی ہے یہ اس قدرا ٓمد نہیں پیدا کرتا کہ سال کا خرچ چل سکے۔یا مثلاً کسی پر ذرائع آمد کے محدود ہونے کے سبب سے قرض ہوجائے گا۔یہ چاروں باتیں خدا تعالیٰ کے الگ الگ اسموں کے نیچے آئیں گی اگر کمی آمد کی وجہ سے قرض ہو تو انسان کہے گا کہ اے باسط ! مجھے رزق میں فراخی دے تب خدا اسے رزق دے گا لیکن اگر اس کی سستی کے سبب سے اس کی آمدن کم ہے تو وہ یہ دُعا کرے گا کہ اے قیوم! مجھے چُستی عطا فرما اگر گناہ کے سبب سےمقروض ہے تو کہے گا کہ اے غفور ! مجھے بخش دے اور اگر اس سبب سے تنگی ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ شخص فراخی رزق کے ساتھ ایمان کو سنبھال نہیں سکتا تو اس طرح دعا کی جائے گی کہ اے ہادی! مجھے مضبوطی ٔ ایمان بخش غرض صفات الٰہیہ کے ماتحت دُعا کرنا ایک مستقل علم ہے اور مَیں نے صرف موٹی موٹی