انوارالعلوم (جلد 6) — Page 435
باتیں بطور مثال بتائی ہیں تا معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ کی صفات ہمارے لئے نئے علوم بیان کرتی ہیں۔حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق صفات الٰہیہ کے نظارے حضرت مسیح موعودؑ نے خدا کی صفات کا علم سیکھا اور ان کے اثر کے نظارے دکھائے۔لوگوں نے آپؑکا مقابلہ کیا اور آپؑکو ہلاک کرنا چاہا حضرت صاحبؑنے ان کے مقابلہ کے لئے خدا تعالیٰ کی صفت قیوم سے مدد طلب کی اور مخالف ناکام رہے۔پھر تکالیف پہنچانے کی کوشش کی اس کے لئے آپؑنے حفیظ صفت کو بلایا اور آپؑ دشمنوں کی شرارتوں سے محفوظ رہے۔علم کے متعلق مخالفوں نے آپؑنے کہا مجھے پتہ ہے کہ علم کا خزانہ کہاں ہے مَیں وہاں سے علم لے آئوں گا۔چنانچہ آپؑنے خدا تعالیٰ کی صفت علیم کو پکارا اور آپؑکو بے نظیر علم دیا گیا۔آپؑفرماتے تھے کہ ایک دفعہ چالیس ہزار الفاظ کا مادہ ایک منٹ میں خدا تعالیٰ نے میرےدل میں ڈال دیا۔٭ پس دیکھو خدا کی صفات کا علم حاصل کرکے آپؑ کیا سے کیا بن گئے۔گویا کہ آپؑاس دُنیا کے آدمی ہی نہ رہے۔آسمانی عالم کے وجود ہوگئے۔صفات الٰہیہ کا علم رکھنے والے کے نزدیک بادشاہ کی حقیقت جو کوئی اس علم کو حاصل کرتا ہے اس کی خاص حالت ہوجاتی ہے دیکھو ایک بادشاہ کی نسبت لوگ کہتے ہیں اس کا بڑا اقبال ہے مگر میں کہتا ہوں اس شخص کے مقابلہ میں اس کی کیا حقیقت ہے جسے صفات الٰہیہ کا علم حاصل ہوگیا۔دنیوی بادشاہوں کے خزانے ختم ہوجاتے ہیں مگر یہ جس بادشاہ سےتعلق رکھتا ہے اس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔پھر ان بادشاہوں کو ایسی دقتیں پیش آجاتی ہیں جن کا وہ کوئی علاج نہیں کرسکتے۔چنانچہ جرمنی کے ایک قیصر کو خناق ہوگیا بیسیوں ڈاکٹروں نے زور لگایا مگر کچھ نہ کرسکے۔اللہ تعالیٰ کےفضل سے جو لوگ اس کے در پر گرنے والے ہیں وہ ایسی بیمارویوں سے جو سخت تکلیف دہ ہوں یا ڈراؤنی ہوں محفوظ رہتے ہیں۔یورپ کے اخبارات نے مذکورہ بالا قیصرکی وفات پر لکھا کہ بڑے بڑے ڈاکٹر تین دن تک ملک الموت سے جنت کرتے رہے لیکن آخر کار ملک الموت کامیاب ہوگیا۔یہ بادشاہ اس تکلیف سےمرا تھا کہ دیکھنے والے بیتاب ہو ہوجاتے تھے۔مگر جس شخص سے اس کا تعلق ہو جس کے قبضہ میں ملک الموت ہے وہ کب اس قسم کے خطرات کی پرواہ کرسکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نبی کہ جان ملک الموت *انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱۱ ص ۲۳۴