انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 200

ان ہی ایّام میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے سوال کیا گیا کہ کیا احمدیوں اور غیر احمدیوں میں اُصولی فرق ہے یا فروعی؟ اس پر آپ نے جواب دیا کہ اصولی فرق ہے۔اس پر تو اندھیر پڑگیا نہایت سختی سے غیر احمدی اخبارات نے حضرت خلیفۃ المسیح پر حملے شروع کردئیے۔کہ ایک معمولی سی بات پر انہوں نے مسلمانوں میں اختلاف ڈلوادیاہے۔تبلیغ احمدیت کا سوال اس بحث کے ساتھ ساتھ جو احمدیوں اور غیر احمدیوں میں تھی۔ایک سوال خود جماعت میں بھی چِھڑا ہوا تھا۔اور وہ سوال تبلیغ احمدیت کا تھا۔خواجہ صاحب نے جب سے لیکچر دینے شروع کئے سوائے پہلے لیکچر کے۔آپ نے یہ بات خاص طور پر مدِّ نظر رکھی تھی کہ حضرت مسیح موعود ؑکا ذکر نہ آوے۔حالانکہ اس وقت سب امراض کا علاج اللہ تعالی نے مسیح موعودؑ کی غلامی کو قرار دیا ہے۔بلکہ وہ کوشش کرتے تھے کہ اگر کسی موقع پر سلسلہ مضمون میں حضرت مسیح موعود ؑ کا ذکر ضروری ہوجاوے۔تو وہ اسے بھی ٹلا جاویں۔وہ یہ بات سمجھ چکے تھے کہ غیر احمدیوں کو اگر عداوت ہے تو صرف ما ٔمورمن اللہ سے۔وہ بھی ایسے لیکچروں میں خوب آتے اوربہت شوق سے آتے اورہزاروں کا مجمع ہوجاتا۔جیسا کہ میں پہلے بیان کر آیا ہوں۔خواجہ صاحب ان لیکچروں کو مقبول بنانے کےلئے خاص تدابیر بھی اختیار کرتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ خواجہ صاحب کے لیکچر خوب مقبول ہونے لگے اور غیر احمدیوں نے بھی تعریفیں شروع کیں اور خواجہ صاحب کی چاروں طرف سے مانگ ہونے لگی احمدیوں نے جو یہ شوق لوگوں کا دیکھا تو اصل بات کو تو سمجھے نہیں،خواجہ صاحب کی اس کامیابی کو سلسلہ کی کامیابی سمجھا اورخاص طور پر جلسہ کرنے شروع کئے اور خیال کرنے لگے کہ اسی طرح غیر احمدیوں کو سلسلہ سے اُنس ہوتے ہوتے لوگ داخلِ سلسلہ ہونے لگیںگے۔یہ وباء کچھ ایسی پھیلی کہ ہمارے سلسلہ کے دوسرے لیکچراروں نے بھی یہی طریق اختیار کرنا شروع کردیا۔اور قریب ہوگیا کہ وہ قرنا جو خدا تعالیٰ نے مسیح موعودؑ کےذریعہ سے پھونکی تھی۔اس کی آواز ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے۔یہ وقت احمدیت کے لئے نہایت خطرناک تھا۔بعض احمدی لیکچرار مسیح موعود ؑکا ذکر کھُلے طور پر کرنے سے ہچکچانے لگے اور جب کوئی سوال بھی کرتا تو ایسے رنگ میں جواب دیا جاتا کہ جس سے مضمون کی پوری طرح تشریح نہ ہوتی تھی۔یہ بات مداہنت کے طور پر نہ تھی نہ منافقت کے باعث بلکہ یہ لوگ خواجہ صاحب