انوارالعلوم (جلد 6) — Page 201
کی اتّباع میں یہ خیال کرتے تھے کہ اس طرح سلسلہ کی اشاعت میں زیادہ آسانیاں پیدا ہوں گی۔جو واعظ حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر کرتے بھی تھے تو وہ بھی ایسے پیرایہ میں کہ جو مضامین غیر احمدیوں کو اشتعال دلانے والے ہیں ان کا ذکر بیج میں نہ آوے۔مگر سب کی سب جماعت اس خیال کی نہ تھی۔ایک حصہ ایسا بھی تھا۔جو خواجہ صاحب کے طریق عمل کو خوب سمجھتا تھا اور اس کی طرف سے خواجہ صاحب پر سوال ہونا شروع ہوا کہ وہ کیوں اپنے لیکچروں میں کبھی بھی سلسلہ کا ذکر کرتے۔اس کا جواب خواجہ صاحب ہمیشہ عبدالحکیم مُرتد کے ہم نواہو کر یہی دیا کرتے تھے کہ پہلے بڑے بڑے مسائل طے ہوجاویں۔پھر یہ مسائل آپ حل ہو جاویں گے۔جب یہ لوگ ہمیں خدمتِ اسلام کرتے دیکھیں گے۔کیا ان کے دل میں یہ خیال نہ پیدا ہوگا کہ یہی لوگ حق پر ہیں۔مَیں تو سڑک صاف کر رہا ہوں جنگل کے درخت کاٹ رہا ہوں ٹیلوں کو برابر کر رہا ہوں۔جب سٹرک تیا ہوجاوے گی۔جنگل کٹ جاوے گا۔زمین صاف ہوجاوے گی پھر وقت آوے گا کہ ریل چلائی جاوے۔کھیتی کی جاوے۔باغ لگایا جاوے۔مگر جب سوال کیاجاتا کہ اگر پہلے جنگل کے کاٹنے کی ضرورت تھی اورسڑکوں کی تیار ی کا وقت تھا۔تو خدا تعالیٰ نے کیوں اس وقت مسیح موعودؑ کو بھیج کر دُنیا کو فتنہ میں ڈال دیا۔ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ ہر ایک لیکچر میں صرف یہی ذکر کریں لیکن بحصہ رسدی اس ضروری صداقت کا بھی تو اطہار ہونا چاہئے۔اس کا جواب نہ خواجہ صاحب دے سکتے تھے نہ دیتے تھے۔وہ اس پر یہی کہہ دیا کرتے کہ مَیں کسی کو کب منع کرتا ہوں۔میں راستہ صاف کرتا ہوں کوئی اور شخص ان اُمور پر لیکچر دیتا پھرے ۲۷؍مارچ۱۹۱۰ءکا لیکچر چنانچہ ان واقعات کو دیکھ کر مجھے ۲۷؍مارچ ۱۹۱۰ء کو ایک لیکچر دینا پڑا۔جس میں مَیں نے اس طریق کی غلطی سے جماعت کو آگاہ کیا۔جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے ایک حصہ میں ہوشیار پیدا ہوگئی اور وہ اپنی غلطی کو سمجھ گیا مگر پھر بھی میرا وہ لیکچر اس رَو کو نہ دبا سکا۔جو زور سے بہہ رہی تھی اور مسئلہ کفر واسلام غیر احمدیان کے ساتھ مل کر وہ برابر ترقی کرتی چلی گئی۔غیر احمدیوں کی تکفیر کا مضمون جب حالات یہاں تک پہنچ گئے اورایک طرف اپنی جماعت کا ایک حصہ غلط طریق پر چل پڑااور دوسری طرف غیر احمدیوں نے بعض احمدیوں کے رویہ سے شہ پکڑ کر ہم پر حملہ شروع کردیا تو مَیں نے غیر احمدیوں کی تکفیر پر مبسوط مضمون لکھا۔جو حضرت خلیفۃ المسیح کی اصلاح کے بعد تشحیذ الاذہان کے اپریل ۱۹۱۱ء صفحہ ۱۲۳ تا صفحہ ۱۵۸ کے پرچہ میں شائع کیا گیا یہ مضمون اس وقت کے حالات کے ماتحت جماعت کو ایک کونے سے دوسرے کونے