انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 199

سلسلہ شروع کیا گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ خواجہ صاحب کی مانگ شروع ہوئی اور لیکچروں کا سلسلہ وسیع ہوا۔جہاں جہاں جاتے جماعت کو اشارتاًکہنا یتاً موقع ہو تو وضاحتاً خلافت اورا نجمن کے معاملہ کے متعلق بھی تلقین کرتے اوربوجہ اس شہرت کےجو بحیثیت لیکچرار کے ان کو حاصل ہوگئی تھی کچھ اثر بھی ہوجاتا۔خواجہ صاحب کا غیر احمدیوں کے قریب ہونا یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جب انسان ایک غلط قدم اٹھاتا ہے تو دوسرا خود بخود اُٹھتا ہے۔لیکچروں کے سلسلہ کی وسعت کےساتھ خواجہ صاحب کے تعلقات غیر احمدیوں سے بھی زیادہ ہونے لگے۔وہ پہلے ہی سے سلسلہ کی حقیقت سے ناواقف تھے اب جو یہ مشکلات پیش آنے لگیں کہ بعض دفعہ جلسہ کے معاً بعد یا پہلے نماز کا وقت آجاتا اور غیر احمدی الگ نماز پرھتے اور احمدی الگ۔اور لوگ پوچھتے کہ یہ تفریق کیوں ہے؟ تو خواجہ صاحب کو ایک طرف اپنی ہر دلعزیزی کے جانے کا خوف ہوتا دوسری طرف احمدیوں کے مخالف کاڈر۔اس کشمکش میں وہ کئی طریق اختیار کرتے۔کبھی کہتے کہ یہ نمازکی مخالفت تو عام احمدیوں کے لئے ہے کہ دوسروں سے مل کر متأثر نہ ہوں۔میرے جیسے پختہ ایمان آدمی کے لئے نہیں مَیں تو آپ لوگوں کےپیچھے نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوں۔کہیں جواب دیتے کہ ہم تو ایک امام کے تابع ہیں آپ لوگ ان سے دریافت کریں۔کہیں کہہ دیتے کہ اگر آپ لوگ کفر کا فتویٰ واپس لے لیں تو ہم نماز پیچھے پڑھنے کے لئے تیار ہیں۔غرض اسی قسم کےکئی عُذرات کرتے۔درحقیقت عبدالحکیم کے ارتداد کے وقت سے ہی ان کے خیالات خراب ہوچکے تھے۔مگر اب ان کے نشو ونما پانے کا وقت آگیا تھا۔خَواجہ صاحب شہرت و عزت کے طالب تھے۔اور یہ روکیں ان کی شہرت وعزت کے راستہ میں حائل تھیں۔اور جو کچھ بھی ہو۔ان روکوں کے دورکرنے کا خواجہ صاحب نے تہیہ کرلیا تھا۔سب سے پہلے یہ تدبیر اختیار کی گئی کہ پیسہ اخبار اور وطن اخبار میں مرزا یعقوب بیگ سے ایک مضمون دلوایا گیا کہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنےکی ممانعت ایک عارضی حکم ہے۔اوراس طرح اس امر کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی گئی کہ کچھ مدت کے بعد ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنی شروع کردی جاوے۔اس تحریر پر جماعت کے بعض لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ اب بات حد سے آگے نکل رہی ہے ابھی وہ اسی فکر میں تھے کہ احمدیوں کی ان حرکات سے دلر ہوکر غیر احمدیوں نے بھی حملے کرنے شروع کردئیے اوراحمدیوں کو تنگ ظرف اور وسعت حوصلہ سے کام نہ لینے والا قرار دینے لگے۔