انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 75

انوار العلوم جلد 4 ۷۵ بیعت کر نیوالوں کیلئے ہدایات ہے ۔ بلکہ وہ یہی کہے گا کہ چونکہ میں آگ کی گرمی کو جانتا ہوں اور اس کو ہاتھ لگانے سے جلتا ہے اس لئے میں یہ ہرگز نہیں مان سکتا کہ یہ آگ نہیں ہے ۔ ہاں مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ پانی ڈالنے سے کیونکر آگ نکلتی ہے ۔ انبیاء کی صداقت کے معیار یہی طریق انبیاء کے پہچاننے کا ہے ان کی صداقت کے کئی ثبوت ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعہ صداقت کی تحقیق کرنی چاہئے کیونکہ اگر اس طرح نہ کیا جائے تو کئی ایسی باتیں ہو سکتی ہیں جن کو گمراہ کر نیوالے لوگ پیش کر کے دھوکا دے دیتے ہیں ۔ لیکن جب انسان صداقت کو صداقت سمجھ کر مانے تو ایسی باتوں سے ٹھو کر نہیں کھا سکتا کیونکہ اول تو کوئی شبہ پیدا نہیں ہوتا اور اگر پیدا ہو تو انسان اس کے ازالہ کا علم حاصل کر سکتا پیدانہیں اور اس علم ہے لیکن صداقت کو نہیں چھوڑتا ۔ دیکھئے رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کو جس شخص نے سمجھ سوچ کر مانا ہو اور جو آپ کی صداقت کے دلائل اور براہین سے واقف ہو اس کے دل میں اگر کوئی لاکھوں شبہا صداقت رسول کریم کے متعلق ڈالنا چاہیے تو وہ یہی کہے گا کہ مجھے ان کی وجہ معلوم نہیں یا میں ان کا جواب نہیں دے سکتا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کر سکتا۔ کوئی شبہ ہو میری کئی علم کا ثبوت ہو گا رسول کریم بیچتے ہیں کیونکہ آپ کی صداقت کے ثبوت میرے پاس ہیں۔ اب مسلمان کتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی طرح جھوٹے ہو سکتے ہیں حالانکہ آپ کی صداقت کے ثبوت انہیں معلوم نہیں وہ چونکہ باپ دادا سے سنتے آئے ہیں اس لئے کہتے ہیں کہ رسول کریم سیچتے ہیں لیکن ہمارے پاس خدا کے فضل سے رسول کریم کی صداقت کے ثبوت ہیں اور اگر کوئی آپ پر اعتراض کرے تو ہم اس کا جواب دے سکتے ہیں مگر میں کہتا ہوں اگر مخالف کے کسی اعتراض کا جواب نہ بھی آئے تو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کے متعلق ہمیں شبہ نہیں پڑ سکتا کیونکہ ہم نے آپ کو اس طرح مانا ہے جس طرح سورج کو مانتے ہیں ۔ پس اول تو خدا کے فضل سے ہر ایک اعتراض کا جواب آتا ہے لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ ہمیں کسی اعتراض کا جواب نہ آئے تو اس کی وجہ سے رسول کریم کی صداقت کا انکار نہیں کیا جائیگا کیونکہ ہم نے آپ کو لیونی نہیں مانا بلکہ آپ کی صداقت کے دلائل کو دیکھ کر مانا ہے اور پورا پورا یقین ہے کہ وہی دلائل ہیں جو سچے نبی کے لئے ہوتے ہیں ۔ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کے دلائل اسی طرح ہم حضرت مرزا صاحب کو مانتے ہیں ان کی صداقت کے لئے نئے دلائل کی ضرورت نہیں بلکہ ان کے لئے بھی وہی دلائل ہیں جو رسول کریم ، حضرت موسی ، حضرت عیسی