انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 551

انوار العلوم جلد 4 ۵۵۱ دعوت علماء جنہیں وہ آپ کے خاندان کے متعلق شائع کر کے لوگوں کو آپ پر بدظن کرتے تھے کیا فی الواقع کا خاندان قادیان اور اس کے اردگرد کے علاقہ میں اسی عزت کا مستحق نہیں رہا جو آپ نے جو آپ کا انان ایران اور کار میں رہ جاتا ہے اپنی کتابوں میں تحریر فرمائی ہے ؟ اور پھر یہ سوچیں کہ جس شخص کے خلاف لوگوں کو بھڑ کانے کے لئے بعض علماء کو اس قدر عرقریزی کرنی پڑی کہ جھوٹ سے بھی پرہیز نہ کیا۔ کیا وہ اپنی شان میں اس قدر بالا نہ تھا کہ حق کے ذریعے سے اس پر حملہ نہیں کیا جاسکتا تھا ؟ پھر یہ بھی لوگوں سے دریافت کریں کہ کیا آپ کی ذاتی وجاہت ایسی ہی گری ہوئی تھی جیسی کہ آپ کے مخالف علماء بیان کیا کرتے ہیں ؟ اور اس سے نتیجہ نکالتے ہیں کہ آپ نے دنیاوی فوائد کا کوئی راستہ کھلا نہ دیکھ کر مذہبی پیشوائی کی تجویز نکالی ؟ اور اگر واقعات اور شہادت سے اس الزام کو سراسر جھوٹ پائیں تو واپس جاکر ان علماء کو خاص طور پر ملیں جو اس قسم کی باتیں آپ کی نسبت لکھا کرتے ہیں اور بیان کیا کرتے نہیں اور ان سے کہیں کہ آپ لوگ اس قدر جھوٹ بول کر اور افتراء سے کام لے کر اسلام کو بدنام نہ کریں اور کچھ تو علم کہلا کر اپنے نام کی لاج رکھیں اور بیچ سے بھی کام لیا کریں۔ اسی طرح آپ اس معیادہ قرآنی کی تحقیق کریں جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت قرآنی میں بیان فرمایا " قُلْ لَوْ شَاءَ اللهُ مَا تَلُوتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرَكُمْ بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمْرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ - (یونس : (١٧) یعنی ان سے کہہ دے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو میں ہر گز اس تعلیم کو تمہارے سامنے پیش نہ کرتا اور نہ اللہ ہی اس تعلیم کو تمہارے لئے ظاہر کرتا تم خود ہی غور کر کے دیکھ لو کہ اس سے پہلے ایک عمر میں نے تم لوگوں میں گزاری ہے کیا اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ میںاللہ تعالی پر جھوٹ باندھ سکتا ہوں۔ اگر میری گذشتہ زندگی صاف طور پر تیار رہی ہے کہ مں جھوٹ سے بکلی پر ہیز کرنے والا اور سچ کو کی حالت میں چھوڑنے والا نہیں ہوں تو پھر سوچو کہ تم کیا کہ ہے ہو اور میری تکذیب میں کہاں تک حق بجانب ہو ۔ اس معیار صداقت کی آپ لوگ باہر اس حق ہو۔ کی لوگ باہم طرح تحقیق نہیں کر سکتے جس طرح کہ قادیان میں بیس تعصب اور ضد کو اپنے دل سے دور کر کے اس معیار کی آپ لوگ اچھی طرح تحقیق کریں اور دیکھیں کہ کیا فی الواقع آپ دعویٰ سے پہلے مرندہ ہب وملت کے لوگوں کی نظروں میں اعلیٰ درجہ کے راستباز اور پیچھے تھے یا نہیں۔ قادیان اور اس کے گرد و نواح میں ہندو بھی لیتے ہیں اور سکھ بھی اور آریہ بھی اور غیر احمدی بھی اور سب مذہبوں کے پیروں میں ایسے لوگ زندہ موجود ہیں جو آپ کی جوانی سے بلکہ بعض تو بچپن سے بھی آپ کے حالا کی واقف ہیں ان سے آپ کی زندگی کے حالات دریافت کیجئے ۔ قادیان کے آریہ صاحبان میں رہے کے حالات سے