انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 514

انوار العلوم جلد 4 ۵۱۴ تحفه شهزاده ویلیز جیسی فصیح عربی زبان میں کتاب لکھے انعام میں مقرر کی اور فیصلہ کا طریق بھی نہایت سہل رکھا مگر باوجود اس کے کوئی مقابلہ پر نہ آیا اور اللہ تعالیٰ نے سب کی ہمتیں پست کر دیں اور زبانیں بند کر دیں اور آپ کا یہ معجزہ ہمیشہ کے لئے صداقت کے طلب گاروں کے لئے ایک نشان ہو گا اور اس اور یہ کے منکروں کے خلاف حجت اور اس قسم کے معجزات آپ کے ہاتھ پر کئی کے ہاتھ پر کئی رنگوں میں اور متعدد دفعہ ظاہر ہوئے ۔ دوسرا معجزہ : لا علاج بیماروں کی شفاء کے متعلق دوسری مثال آپ کے معجزات میں سے میں ایسے بیماروں کے سے اچھا کرنے کے متعلق بیان کرتا ہوں جو طلبی طور پر لاعلاج سمجھے جاتے ہیں اور وہ یہ ہے :۔ کہ ایک لڑکا کئی ہزار میل سے یعنی حیدر آباد دکن کے علاقہ یاد گیر سے اس ۔ کئی ہزارمیں سے یعنی حیدر کے علاقہ یا سے اس دورہ مدرسہ میں پڑھنے کے لئے آیا جسے آپ نے اپنی جماعت کے لڑکوں کے لئے جاری کیا تھا اور غرض یہ تھی کہ اس مدرسہ میں جو لڑ کے تعلیم حاصل کرنے کے لئے آویں گے ان کی دینی تعلیم بھی ساتھ ساتھ ہوتی چلی جائے گی ۔ اس لڑکے کا نام عبدالکریم تھا۔ اسے اتفاقاً باولے کتے نے کاٹ لیا اور اسے علاج کے لئے کسولی بھیج دیا گیا مگر جب وہ وہاں سے واپس آیا تو اسے دیوانگی کا دورہ ہو گیا اور تشیخ پڑنے لگا اور حالت خراب ہو گئی کسولی تار دیا گیا کہ اب اس کے لئے کیا کیا جائے ؟ مگر وہاں کے ڈاکٹر نے تار میں جواب دیا کہ افسوس عبدالکریم کے لئے اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ "SORRY NOTHING CAN BE DONE FOR ABDUL KARIM" حضرت مسیح موعود کو اس کا بہت صدمہ ہوا کہ یہ بچہ جس کی ماں بیوہ ہے اور اس نے نہایت شوق سے اس قدر فاصلہ سے دین کی خاطر اس کو یہاں بھیجا ہے اس طرح ضائع ہو جائے اور آپ نے اس کے لئے دُعا کی اور وہ اچھا ہو گیا اور اب تک زندہ ہے اور اپنا کا روبار کرتا ہے۔ یہ وہ نشان ہے کہ علمی دنیا کو اس کی بے نظیری ماننے کے سوا چارہ نہیں کیونکہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اس وقت تک اس قسم کی شفاء کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ بیشک دیوانگی کے دورہ سے پہلے علاج ہو جاتا ہے اور بعض بلا علاج کے بھی دیوانگی کے حملہ سے بچ جاتے ہیں۔ مگر دیوانگی کا دورہ ہو کر پھر شفاء آج تک کسی مریض کو نہیں ہوتی اور یہ ایسا زبردست معجزہ ہے کہ اس زمانہ کی علمی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے اس کو اسی زمانہ کے لئے مخصوص رکھا تھا تا سائنس کے دلدادوں پر اپنی قوت اور اپنے جلال کا اظہار کرے اور بتائے کہ میں خدا ہوں جو