انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 488

آپ ؑکی عمر کوئی چالیس برس کی ہوگی کہ آپؑ کے والد فوت ہوگئے اور یہ پہلا دن تھا کہ آسمان کے دروازے آپ پر کھولے گئے اور خدا وند خدا آسمانوں اور زمینوں کا خدا آپ سے ہمکلام ہوا اور اس نے کہا کہ دیکھ مغرب کے وقت تیرا والد فوت ہوگا اور جب ایک آن کے لئے آپؑ کے دل میں خیال گزرا کہ پھر میں کیا کروںگا؟کہ اکثر آمدنی انہی کےذریعہ سے تھی تو پھر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہوا اور وہ یوں گویا ہوا۔کہ اے میرے بندے! کیا تیرا رب تیرے لئے کافی نہیں؟ اس وقت سے آپؑ کی حالت دمبدم بدلنے لگی اور خدا کا جلال روز بروز زیادہ شوکت کے ساتھ ظاہر ہونے لگا اور دیکھو کہ آسمان اور زمین کےراز آپ پر کھلنے لگے اور اکثر باتیں جو آئندہ ہونی ہوتیں آپ پر ظاہر کی جاتیں اور وہ لوگ جو ان کو سنتے تعجب کرتےاور حیرت سے کہتے کہ خدا کے کام عجیب ہیں۔اس وقت تک آپ کی صداقت اور نیکی کو دیکھ کر لوگوں پر یہ اثر پڑگیا تھا کہ دشمن بھی آپ ؑکی صداقت کا اقرار کرنے لگ گئے تھے اور آپ کے خاندان سے جن لوگوں کا جھگڑا ہوتا وہ اکثر اس امر پر راضی ہوجاتے تھے کہ جو فیصلہ آپ کردیں وہ انہیں منظور ہوگا اورجب آپ باوجود اپنانقصان ہونے کے ہر ایک کا حق اس کو دلواتے تو لوگ تعجب کرتے کہ کس طرح خدا اس شخص میں ظاہر ہوتا ہے۔اور آپ ؑکی عادت تھی کہ جب آپ کو معلوم ہوتا کہ کسی کا حق کوئی شخص مارتا ہے تو اس کو سمجھاتے اور اس کا حق دلوانے کی کوشش کرتے اور خصوصاً اپنے بھائی کو جو آپ ؑکی اوراپنی جائداد کے متنظم تھے بہت سمجھاتے کہ ہر ایک کا حق اس کو ادا کریں اوردنیا کے نقصان کی پرواہ نہ کریں اور اس طرح وہ بات پوری ہوئی کہ ابنِ آدم ؑآکر دُنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیگا۔جب آپ چالیس سال کے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے پے درپے آپ پر نازل ہونے شروع ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس قسم کے احکام نازل ہوئے جن کا مطلب یہ تھا کہ اسلام اس وقت نہایت بے کس حالت میں ہے اور دُنیا کی نظروں میں حقیر تو اُٹھ کر اس کی مدد کر اور اس کی عظمت اور صداقت کو لوگوں پر ظاہر کر۔چنانچہ آپؑنے ایک ضخیم کتاب براہینِ احمد نام اس غرض سے تصنیف کی اور اس میں اسلام کی صداقت اور اس کی دوسرے مذاہب پر فضیلت ثابت کی اور ہر مذہب رملت کے لوگوں کو بلایا کہ اپنی الہامی کتابوں میں جو خوبیاں ہیں ان کو اسلام کے مقابلہ پر ظاہر کریں مگر باوجود بار بار کے بلانے کے لوگ مقابل پر نہ آئے اور ملک کے بڑے بڑے عالموں نے اقرار کیا کہ ایسی کتاب بغیر خدا کی تائید کے نہیں لکھی جاسکتی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپؑنے کسی بڑے مدرسہ میں تعلیم نہیں پائی۔نہ کسی بڑے عالم سے علم سیکھا ہے۔مگر ابھی وہ کتاب مکمل نہ ہوئی تھی کہ اللہ نے آپؑ