انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 487

کو دیکھ پھر سوگئے۔پھر انہوں نے جگایا کہ مَیں نے آواز سنی ہے اُٹھو اور اس مکان کو خالی کردو مگر انہوں نے پرواہ نہ کی اوران کا وہم سمجھا۔پھر ان کو ایسی ہی آواز آئی اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ چھت گرے گی اور صرف آپؑ کے نکلنے کا انتظار کر رہی ہے۔اس پر آپؑ نے ان کو جبراً اُٹھایا اور پہلے ان کو نکالا اور آخر میں آپؑ نکلے۔جونہی کہ آپؑنے قدم اُٹھا کر سیڑھی پر رکھا چھت گر گئی اور تمام ساتھیوں نے محسوس کیا کہ اگر آپ ؑوہاں نہ ہوتے یا پہلے ان کو نکال کر بعد میں خود نہ نکلتے تو ضرور اس چھت کے نیچے دب کر مرجاتے اور وہ آپ ؑکو عزت اور تعجب کی نگاہوں سے دیکھنے لگے۔جبکہ آپؑ سیالکوٹ ہی میں تھے کہ آپ ؑکی والدہ سخت بیمار ہوگئیں اور آپؑ کے والد صاحب نے ان کی بیماری کے سبب سے بھی اور اس خیال سے بھی کہ اس قدر عرصہ باہر رہنے کی وجہ سے اور دنیا کے سرد وگرم کے چھکنے کے سبب سے اب آپ ؑکی طبیعت دنیا کے کاروبار کی طرف مائل ہوگئی ہوگی آپ ؑکو واپس بلوالیا اوراپنی جائداد کا انتظام آپ کے سُپرد کردیا۔مگر وہ پاکیزگی اور خدا سےلگائو جو آپ ؑکو حاصل تھا اس کا زور جس طرح کچہری کی ملازمت سے کم نہ ہوا تھا اب جائداد کے انتطام سے بھی اس میں کوئی کمی پیدا نہ ہوئی۔آپ ؑوالد کے کہنے پر کام تو کرتے مگر توجہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف رہتی اور ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی یاد کو نہ بھولتے۔چنانچہ ایک دفعہ آپ ایک مقدمہ پر گئے ہوئے تھے کہ نماز کا وقت آگیا۔بعض دوستوں نے کہا کہ اس وقت یہاں سے جان درست نہیں کیونکہ ابھی مجسٹریٹ آواز دے گا مگر آپؑنےاس کی پرواہ نہ کی باہر جاکر نماز شروع کردی۔اس عرصہ میں مجسٹریٹ نے پہلے مقدمہ سے فراغت حاصل کرکے آپؑکے مقدمہ کا کام شروع کیا اور آپ ؑکو آواز دی گئی مگر آپ اطمینان سے نماز پڑھتے رہے اورجب عبادت الٰہی سے فراغت حاصل کرکے عدالت میں گئے تو اس وقت تک مجسٹریٹ مقدمہ ختم کرچکا تھا۔انہی دنوں میں ایک اور واقعہ پیش آیا جس سے آپؑ کا تعلق باللہ معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ آپ ایک ضروری مقدمہ کے لئے گئے ہوئے تھے جس پر آپؑ کے والد کے حقوق کا بہت کچھ انحصار تھا ایک دوست کے ہاں ٹھہرے ہوئےتھے جب مقدمہ سےواپس آئے تو بہت خوش تھے۔ا س دوست نےسمجھا کہ آپؑ مقدمہ جیت آئے ہیں مگر معلوم ہوا کہ مقدمہ آپؑ کے والد کے خلاف ہوا تھا اور آپؑ خوش اس امر سے تھے کہ اب کچھ دن آرام سے عبادت الٰہی کا مزا حاصل کریں گے۔ان دنوںمیں آپؑنے ثابت کردیا کہ کس طرح انسان والدین کی اطاعت کرتے ہوئے بھی اپنے مالک اور آقا کو خوش کرسکتا ہے اور ضروری نہیں کہ اپنے ماں باپ کی ہتک کرکے ہی خدا کو خوش کرے۔