انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 481

میں اس کے نام پر ایک رسول بھیجا گیا ہے اور اس میں مسیحؑکے رنگ کو دیکھے ورنہ اور کوئی ذریعہ مسیحؑکے دیکھنے کا نہیں ہے۔آنے والا آچکا۔مبارک ہیں وہ جو اس کو پہچانتے اور اس پر ایمان لاتے ہیں۔ہاں اسلام کا منادی اور آخری شریعت کا پورا کرنے والا اور اسے ثابت کرنے والا آگیا تا اس کے ذریعہ سے وہ لوگ جو دنیا کے کناروں پر بستے ہیں خدا کی بادشاہت میں داخل ہوں اور نبیوںؑ کے سرادر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کو اختیار کریں جس کی غلامی اختیار کئے بغیر کوئی نجات نہیں اور جو اسے قبول نہیں کرتا اس کے لئے دانت پیسنے اور رونے کےسوا اور کچھ نہیں۔جس طرح پہلا مسیحؑ کوئی نئی شریعت نہیں لایا تھا بلکہ موسٰی کےدین کے استحکام اور اس کے قیام کے لئے آیا تھا یہ مسیحؑبھی مثیل موسٰی کے دین کے استحکام اور اس کی اشاعت کے لئے آیا ہے اور اگر پہلی دفعہ مسیح ؑاس منادی کے لئے آیا تھا کہ دیکھو خدا کی بادشاہت آنے والی ہےپس ہوشیار ہوجائو، جہان کا سردار آنے والا ہے چوکس ہوجائو۔دائمی نجات کا وارث پیدا ہونے والا ہے خبردار ہوجائو تو اس دفعہ مسیح ؑکے آنے کی غرض یہ ہے کہ لوگوں کو بتائے کہ خدا کی بادشاہت آچکی ،جہان کا سرادر آچکا ،دائمی نجات کا وارث پیدا ہوچکا آؤ اور اس کی غلامی میں داخل ہوجائو اور میرے پیچھے چلو تا میں تمہیں اس کے گھر میں داخل کروں اور اس کے دستر خوان پر تم کو جگہ دوں کیونکہ اس کے گھر کی کنجیاں میرے سُپرد کی گئی ہیں اور اس کے دستر خوان کا انتظام مجھے سونپا گیا ہے۔اگر کہا جائے کہ ہم کیونکر سمجھیں کہ جو کچھ اس نے کہا وہ درست ہے؟ اور وہ فی الواقع مسیحؑ کا نام پاکر خداوند خدا ہی کی طرف سے آیا ہے اور اس نے جو کچھ اسلام کی نسبت کہا ہے وہ درست ہے؟ کیونکہ ہمیں پہلے سے ڈرایا گیا ہے کہ :- خبردار ! کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آویں گے اور کہیں گے کہ مَیں مسیحؑہوں۔اوربہتوں کو گمراہ کریں گے۔‘‘ (متی باب ۲۴ آیت ۴،۵) اوریہ بھی لکھا گیا ہے کہ :- ’’جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اُٹھیں گے اور ایسے بڑے نشان اور کرامتیں دکھاویں گے کہ اگر ہوسکتا تو وے برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے‘‘ (متی باب ۲۴ آیت ۲۴ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک صداقت کے پرکھنے کے کوئی نشان ہوتے ہیں انہی نشانوں کے