انوارالعلوم (جلد 6) — Page 482
ذریعے سے اس کے دعویٰ کو پرکھا جاسکتا ہے۔بیشک جھوٹے نبیوں کی آمد سے ڈرایا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ بڑے نشان اور کرامتیں دکھائیں گے لیکن یہ بھی تو کہا گیا ہے کہ اگر ہوسکتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں اور سچّے نبیوںؑمیں فرق کرنے کا بھی کوئی ذریعہ ہے جس کی مدد سے برگزید سے ان کے فریب میں نہیں آسکتے۔ان کی کرامتیں اوران کے نشان نبیوں کی کرامتوں اور ان کے نشانوں سے بالکل علیحدہ طرح کے ہونے چاہئیں کیونکہ اگر جھوٹے نبیوں کے نشان بھی سچّوں کی طرح کے ہوں تو پھر ہم کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ موسٰی اور دائود ؑاور یحییٰؑاورخود مسیحؑبھی سچّے نبیوں میں سے تھے؟ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے نشانوں کو اپنے سچّے ہونے کا ثبوت قرار دیا ہے۔چنانچہ یوحنا کے ایلچیوں کو جب وہ ان سے پوچھنے کے لئے آئے کہ: ’’ کیا جو آنے والا تھا تُو ہ ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں۔‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ : جو کچھ تم سنتے اور دیکھتے ہو جا کہ یوحنا سے بیان کرو کہ اندھے دیکھتے اور لنگڑے چلتے،کوڑھی پاک صاف ہوتے اور بہرے سنتے اور مُردہ جی اُٹھتے ہیں اور غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے اور مبارک وہ ہے جو میرے سبب ٹھوکر نہ کھائے۔‘‘ (متی باب ۱۱ آیت ۳ تا ۶ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) اورتوریت میں لکھا ہے کہ: ’’اگر تُو اپنے دل میںکہے کہ مَیںکیونکہ جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں؟ تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نےکہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہا ہے تُو اس سے مت ڈر۔‘‘ (استثناء باب ۱۸ آیت ۲۱۔۲۲) پس معلوم ہوا کہ نشان بھی اور پیشگوئیاں بھی نبیوں کی سچائی کے ثبوتوں میں سے ہیں اور وہ کرامتیں جن کا ذکر مسیح علیہ السلام نے جھوٹے نبیوں کے متعلق کیا ہے وہ ان نشانوں سے علیحدہ قسم کے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نبی دکھاتے ہیں اور شعبدوں اور فریبوں کی قسم سے ہیں نہ کہ فوق العادت اورخدا تعالیٰ کے جلال ظاہر کرنےوالے نشان۔اورجبکہ نبیوں کہ صداقت ہمیشہ ان نشانوں کےذریعہ سے ہی ظاہر ہوتی رہی ہے جو کہ ان کے ہاتھوں پر ظاہر ہوئے یا ان پیشگوئیوں کے ذریعہ سے جو وہ *نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء