انوارالعلوم (جلد 6) — Page 359
پیدا ہوتی ہیں۔پس جو جو کام اس قسم کی طاقتوں کےذریعہ سے ہوسکتے ہیں جیسےاعصاب کی حِسّ کو ماردینا۔بے ہوش کردینا۔جسم کو سخت کردینا وغیرہ ان پر یقین لانا شرک نہیں کہلائے گا۔پس جو اسباب خدا نےکسی چیز کےہونےکے لئے رکھے ہیں ان کے بغیر خیال کرنا کہ کوئی شخص اپنے زور سےکام کردے گا بغیر اس کے کہ یہ سمجھے کہ وہ دعا کرکے خدا سے وہ کام کرا دے گا یہ شرک ہے۔شرک کی ساتویں قسم ساتویں یہ سمجھنا کہ خدا کو کسی بندہ سے ایسی محبت ہے کہ ہر ایک بات اس کی مان لیتا ہے یہ بھی شرک ہے کیونکہ اس کے یہ معنی ہوئے کہ وہ بندہ خدائی طاقتیں رکھتا ہے۔ہر ایک بات جو وہ کہتا ہے قبول ہوجاتی ہے۔یہ ضروری نہیں کہ ایسے آدمی کو خدا سمجھا جائے۔اگر اسے خدا کا غلام بھی سمجھا جائے۔مگر اس کی نسبت یہ خیال کیا جائے کہ اس سے خد ا کو ایسی محبت ہے کہ اس کی ہر ایک بات قبول کرلیتا ہے یہ شرک ہےسارے پیر فقیر جن کے متعلق لوگ ایسا خیال رکھتے ہیں اس کے اندر آجاتے ہیں۔ہماری جماعت کو بھی ایسے خیالات سے بچنا چاہیے بعض لوگوں کو مَیں دیکھتا ہوں بعض دفعہ کہہ دیتے ہیں یا لکھ دیتے ہیں کہ اگر آپ دعا کریں گے تو وہ ضرور ہی قبول ہوگی۔خدا تعالیٰ بادشاہ ہے کسی کا غلام نہیں اس قسم کےکلمات سے اللہ تعالیٰ کی ہتک ہوتی ہے اور شرک پیدا ہوتا ہے مَیں تو کیا چیز ہوں جن لوگوں کے قدمون کی خاک کے برابر بھی میں نہیں یہ رُتبہ ان کو بھی حاصل نہ تھا۔شرک کی آٹھویں قسم آٹھویں قسم شرک کی یہ ہے کہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے خدا کے قانون قدرت نے کسی کام کےکرنے کے لئے کوئی طاقت نہیں دی اس کے متعلق خیال کرلیا جائے کہ وہ فلاں کام کرے گی۔جیسے مثلاً خُدا نے مُردہ کو طاقت نہیں دی کہ اس دنیا میں کوئی تصرف کرسکے اب اگر کوئی کسی مُردہ کو جاکر کسی تصرف کے لئے کہتا ہے تو شرک کرتا ہے اس طرح بتوں ،دریاؤں،سمندروں ،سورج ،چاند وغیرہ چیزوں سے دُعائیں کرنا اور کرانا بھی شرک ہے۔شرک کی نویں قسم نویں قسم شرک کی یہ ہے کہ ایسے اعمال جو مشرکانہ رسوم کا نشان ہیں گو اب شرک کی مشابہت نہیںرکھتے ان کا بلا ضرورت طبعی ارتکاب کرے۔مثلاً ایک شخص کسی قبر پر جا کر نہ دُعا کرے نہ کرائےنہ صاحب قبر کو خدا سمجھے لیکن وہاں دیا جلا کر رکھ آئے تو یہ فعل بھی شرک کے اندر آجائے گا۔کیونکہ یہ عمل پہلے زمانہ کے مشرکانہ اعمال کا