انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 360

اورباریک بحثوں کو سمجھ نہیں سکتے اور چونکہ لوگ فلسفیانہ بحثوں میں ہی اکثر پڑ جاتے ہیں اس لئے عوام النّاس کو چندان فائدہ نہیں ہوتا۔شرک کے مقابلہ کا اصل طریق فطرتِ انسانی سےاپیل ہے خدا تعالیٰ نےشرک کے خلاف انسان کی فطرت میں مادہ رکھا ہے اور اس کے پاس اپیل رائیگاں نہیں جاتی ایک مشرک آدمی سے بھی بجائے فلسفیانہ بحث کرنے کے اگر اس کی عقل اور ضمیر سے اپیل کرتے ہوئے اس کی توجہ کو اس طرف پھیرا جائے تو وہ بہت جلد حق کی طرف رجوع کرتا ہے۔قرآن کریم نے اسی طریق پر زیادہ زور دیا ہے بجائے اس پر بحث کرنے کے کہ خدا کا شریک ہوسکتا ہے یا نہیں۔لوگوں کو یہ توجہ دلائی ہے کہ خدا تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکرتے ہوئے دوسروں کو اس کے برابر قرار نہ دو اورپھر ان چیزوں کو کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی ہے جن کو لگ خدا کا شریک قرار دیتےتھے اور اس طرح لوگوں کو صحیح فطرت کو اُکسایا ہےجس کا اثر یہ ہوا کہ ملک کا ملک شرک کو چھوڑ کر توحید کی طرف لوٹ آیا۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک قانون قدرت بنایا ہے اور جو طاقتیں کسی کو دینی تھیں وہ دےدی ہیں۔ان سے الگ جو کام انسان کرنا چاہتا ہے اس کےکرنے کیطاقت خدا نے اپنے قبضہ میں رکھی ہے تا کہ اس کی طرف انسان کی توجہ ہو اگر سب کچھ انسان خود کرلیں تو اس کی طرف کون توجہ کرے۔پس خدا تعالیٰ نے قانونِ قدرت بنا دیا اورپھر یہ فیصلہ کردیا کہ اگر کوئی اس میں فرق کرنا چاہےتو وہ مجھ سےدُعا کرے اس کے بدلنے کی طاقت میں کسی اور کو نہیں دوں گا۔پس صرف ایک ذریعہ دعا کا انسان کےہاتھ میں رکھا گیا ہے اور دُعا صرف خدا تعالیٰ سےکی جاسکتی ہے اور کسی سے نہیں۔دوسرے سے دُعا کرانا اگر کوئی کہے کہ پھر دوسرے سےدُعا کرانا بھی ناجائز ہونا چاہئے یہ کیوں جائز ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی اجازت دینے میں ایک حکمت مخفی ہے۔اگر یہ حکمت نہ ہوتی تو دوسرے سے دُعا کرانا بھی شرک ہوتا اور وہ یہ ہے کہ اکثر انسان کمزور ہوتے ہیں وہ خود اپنےپاؤں پر کھڑے نہیں ہوسکتے اور ان کے لئے کسی نمونے کی ضرورت ہوتی ہے اگر نمونہ نہ ہو تو ان کا خدا تک پہنچا مشکل ہوجائے۔پس خدا تعالیٰ نے دُعا کی قبولیت کے مدارج مقرر کردئیے ہیں تا کہ لوگ صحبت صالح کی جستجو کریں اوربد صحت سے اجتناب کریں کیونکہ یہ قدرتی بات ہے کہ جب کوئی شخص دیکھے گا کہ ایک شخص کی دُعا زیادہ قبول ہوتی ہے تو اس کی طرف توجہ کرے گا اور اس کی صحبت کو قبول کرے گا اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے اعمال میں