انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 358

یہ بھی شرک ہے ہاں اگر یہ خیال کرے کہ ان سامانوں میں خدا نے یہ طاقت رکھی ہے اور اس کے فعل اور ارادےکے ماتحت ان کے نتائج پیدا ہوں گے تویہ شرک نہیں ہوگا۔پس شرک کی ایک قسم یہ ہے کہ آخری تصرّف جو خدا کو دینا چاہئے وہ اسباب کو دیدے۔اس شرک کے اندر بھی یہی حقیقت مخفی ہے کہ انتہائی مقام تصرف کا خدا سے لیکر اور چیزوں کو دیدیا ہے۔شرک کی پانچویں قسم پانچویں قسم شرک کی یہ ہے کہ خدا کی وہ مخصوص صفات جو اس نے بندو ں کو نہیں دیں جیسے مُردہ کو زندہ کرنا۔یا کوئی چیز پیدا کرنا یا یہ کہ خدا نے کہا ہے مَیں ازلی ہوں اور میرے سوا اور کوئی ازلی نہیں۔یا یہ بتایا ہے کہ میں فنا سے محفوظ ہوں جبکہ دوسرےسب فنا کا شکار ہیں ایسے سب اُمور میں خدا تعالیٰ کی خصوصیت کو مٹا دینا اور ان صفات میں کسی اور کو شریک کردینا خواہ اس عقیدہ کی بناء پر کہ خدا نے اپنی مرضی اور اپنے ازن کے ساتھ یہ صفات یا ان کا کچھ حصہ کسی خاص شخص کو دیدیا ہے شرک ہے۔اس شرک میں افسوس ہے کہ اب مسلمان بھی مبتلا ہیں۔حالانکہ یہ بہت کھلا اور ظاہر شرک ہے۔مسلمانوں کا عام طور پر یہ خیال ہے کہ حضرت عیسیٰؑابھی تک زندہ ہیں حالانکہ ہر انسان کےلئےفناہے اور فنا سے صرف خدا کی ذات محفوظ ہے اور غیر طبیع زندگی اور وہ بھی ایسی کہ اس میں نہ کھانا ہے نہ پینا نہ حوائج انسانی کا پورا کرنا درحقیقت ابدیت کا ہی دوسرا نام ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک دفعہ تو ضرور ہی ایک انسان کو مار دیتا ہے۔پھر خواہ ابدی زندگی ہی دے دےیہ بھی ایک وجہ ہےکہ خدا تعالیٰنے اس دُنیا میں جنت نہیں بنائی تا کہ لوگوں کو ایسےآدمی دیکھ کر جو موت سے محفوظ ہوں خدا تعالیٰ کی ابدیت کی حقیقت میں شُبہ نہ پیدا ہوجائے۔شرک کی چھٹی قسم چھٹی قسم شرک کی یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے اسباب کو بالکل نظر انداز کردے اور یہ سمجھے کہ کسی شخص یا کسی چیز نے بلا ان اسباب کے استعمال کرنے کےجو خدا تعالیٰ نے کسی خاص کام کے لئے مقرر کئے ہیں اپنی ذاتی اور خاص طاقت کےذریعہ سےاس کام کو کردیا ہے مثلاً خدا تعالیٰ نےآگ کو جلانے کے لئےپیدا کیا ہے۔اب اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ کسی شخص نے بلا آگ اوربلا ایسے ہی دوسرےذرائع کے استعمال کرنے کےاپنی ذاتی طاقت سے آگ لگادی اور قانون قدرت کو گویا توڑ دیا یہ شرک ہے لیکن اس میں مسمریزم وغیرہ شامل نہیں کیونکہ یہ طاقتیں خود قانون قدرت کے اندر ہیں اور کسی شخص کےذاتی کمالات نہیں بلکہ سب لوگوں میں موجود ہیں اور قانون قدرت کےصحیح استعمال کے نتیجہ میں