انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 344

انوار العلوم جلد 4 ام هستی باری تعالی پائی تھی اس نام کو اپنے جادوں میں داخل کر لیا چنانچہ مصری جادوں میں بیووا کا نام ضرور لیا جاتا تھا ۔ اسلام میں خدا کا اہم ذات مسلمانوں نے بھی اس قسم کا دھوکا کھایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان میں عام خیال پھیلا ہوا ہے کہ خدا کا ایک نام الیسا پیره ہے کہ عام لوگوں کے سامنے وہ نہیں لیا جاتا بلکہ صرف خاص خاص علماء کو اس کا علم ہے اور وہ اسے لوگوں سے پوشیدہ رکھتے ہیں اور خدا کا حکم بھی یہی ہے کہ اسے ہر اک پر ظاہرنہ کیا جائے اسے مسلمان " اسم اعظم پکارتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ پیر صاحب کی خدمت کر کے وہ نام حاصل ہوتا ہے اور جسے وہ نام حاصل ہو گیا اسے گو یا سب کچھ مل گیا ۔ حالانکہ بات یہ ہے کہ یہودیوں کو تو کوئی نام ہی نہیں بتا یا گیا تھا۔ جو نام انہیں بنائے گئے تھے وہ سیو و اسمیت صفاتی نام تھے اور ہیں جو اہم اعظم دیا گیا ہے وہ اتنا ظاہر ہے کہ اسے کوئی چھپا ہی نہیں سکتا وہ نام ہے اللہ یہ چھپانے والا نام نہیں بلکہ ظاہر کرنے والا نام ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ بلند آواز سے آذان میں اور نمازوں میں اللہ اکبر کہو ۔ غرض اسلام میں ہی اللہ تعالیٰ کا اسم ذات پایا جاتا ہے اور وہ اللہ کا لفظ ہے۔ اللہ کا لفظ نہ مرکب ہے نہ مشتق نہ اس کے کوئی معنے ہیں یہ صرف اور صرف نام ہے بعض لوگ جو کہتے ہیں کہ لا الہ سے ہمزہ حذف ہو کر اللہ کا لفظ بن گیا ہے بالکل غلطی کرتے ہیں اس لئے کہ لا الہ کا لفظ تو ہر معبود کے متعلق خواہ جھوٹا ہو یا سچا ہو جس کا ذکر ہو رہا ہو بولا جا سکتا ہے لیکن عرب لوگ اللہ کا لفظ کبھی بھی خدا کے سوا کسی اور معبود کے لئے استعمال نہیں کرتے تھے۔ اگر اللہ لا الہ سے بنا ہے تو وہ بتوں پر اس لفظ کو کیوں نہ استعمال کرتے ۔ دوسرے قرآن کریم میں اس لفظ کو ہمیشہ اسم ذات کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور صفات کو اس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ اسے قرآن کریم اسم ذات قرار دیتا ہے نہ کہ اسم صفت ۔ عربی کا قاعدہ ہے کہ جس لفظ کے شروع میں ال تعریف کا ہو اگر اس کو پکارا جائے تو اس کے پہلے حرف ندا کے بعد ایھا کا لفظ بڑھاتے ہیں لیکن اللہ کو پکارتے ہوئے یا ایھا اللہ نہیں کہتے بلکہ یا اللہ کہتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے لفظ میں ال تعریف کا نہیں ہے بلکہ خود لفظ کا حصہ ہے ۔