انوارالعلوم (جلد 6) — Page 343
سے پایا جاتا ہے۔مسیحیوں میں بھی کوئی نام نہیں سب صفاتی نام ہیں۔یہودیوں میں خدا کو یہودا کہتے ہیں۔تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ اس نام کے بھی معنی ہیں۔چنانچہ کہا جاتا ہے کہ یہودا یہودی سے نکلا ہے۔جس کے معنےہیں۔گرنے والا اوراس کا یہ مطلب ہے کہ وہ ہستی جو انسان پر نازل ہو۔مگر اس سےصرف خدا تعالیٰ کے متکلم یا نزول کی صفت معلوم ہوتی ہے اس لئے یہ اسم ذات نہ ہوا۔بلکہ اسم صفت ہوا۔میرے نزدیک یہودا یا ہو ہے یعنی ’’اے وہ جو ہے‘‘ گویا نام کا پتہ نہیں،اور جس طرح کوئی ایسا شخص دور فاصلہ پر جارہا ہو جس کا نام معلوم نہ ہو مگر اسے مخاطب کرنے کی ضرورت ہو تو کہا جاتا ہے۔ارےٹھہر جاؤ۔اسی طرح یہ نام ارے کا قائم مقام ہے اور اس میںصرف اس امر پر دلالت ہے کہ وہ واجب الوجود ہے اس سے زیادہ اور کسی صفت پر اس سے دلالت نہیں ہوتی۔اسلام سےپہلے کسی کو خدا کا اسمِ ذات نہیں بتایا گیا اصل بات یہ ہے کہ اسلام سے پہلے کسی قوم کو خدا کا اسم ذات بتایا ہی نہیں گیا اور اس میں ایک بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کا اسم ذات اس کی ساری صفات کو اپنے اندر رکھتا ہے اور ساری صفات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےذریعہ سے امّتِ محمدیہ پر ہی ظاہر ہوئیں اس لئے اور کسی پر خدا تعالیٰ نے اپنا ذاتی نام ظاہر نہ کیا۔یہودیوں میں خدا کے نام کی عزت یہودی ’’یہودا‘‘ نام کا بڑاادب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیشہ اورہر ایک کو یہ نام نہیں لینا چاہئے کیونکہ اس طرح اسکی بے ادبی ہوتی ہے اس وجہ سے صرف انکے علماء ہی یہ نام لیتے تھے اور اس کا صحیح تلفظ انہی کو آتا تھا اوران کا دعویٰ تھا کہ کوئی دوسرا یہ نام لے تو اس پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے اور جو شخص بغیر باقاعدہ مولوی ہونے کے یہودا کا نام لے تو اس کے مرنے پر اس کا جنازہ وہ نہیںپڑھتے (یعنی مرنے پر جو رسوم ادا کی جاتی ہیں ورنہ اسلامی جنازہ ان میں نہیں ہوتا) اوراسے برکت نہ دیتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اسکی نجات نہ ہوگی۔علماء بھی اگر اس نام کو لوگوں کے سامنے لیتے تو بگاڑ کرلیتے تا کہ گناہ نہ ہو۔اس نام کے متعلق انکا اس قدر اخفاء کرنا ہی اس امر کو موجب ہوا کہ مصریوں نے بڑی کوشش سے اس نام کو دریافت کیا اور یہ خیال کرکے اس نام کی برکت سے یہودیوں نے ہم پر فتح