انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 345

اللہ کیا ہے؟ نام معلوم کرنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ذات جس کا نام اللہ ہے وہ کیاہے؟ گویا اب ہم ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ یا ہووا کہنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ اس کا نام ہمیںمعلوم ہوگیا ہے۔اب یہ دیکھنا ہے کہ وہ ہے کیا؟ اللہ تعالیٰ کے متعلق اہل یورپ کا خیال سب سےپہلے میں اللہ تعالیٰ کے متعلق ان اہل یورپ کے خیالات کو بیان کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ کے وجود کےقائل ہیں۔ایک خیال یہ ہے کہ خدا ہے تو سہی لیکن اس نے دنیا کو پیدا کرکےچھوڑ دیا ہے اب اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہم اس قسم کا کوئی نمونہ نہیں دیکھتے کہ خدا اب بھی کچھ پیدا کرتا ہو اس لئے معلوم ہوا کہ اب کچھ کرنے سے وہ معطل ہوگیا ہے اور اس لئے مخلوق کا عملاً اب اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔دوسرا خیال یہ ہے کہ دُنیا کے انتظام کے لحاظ سے تو خدا بیشک معطل ہی ہے لیکن وہ اپنے آپ کو اخلاقی ہدایت کےذریعہ سے ظاہر کرتا رہتا ہے یعنی لوگوں کے دلوں میں نیک خیال ڈالتا رہتا ہے۔ان لوگوں کو یہ بھی بڑی مہربانی ہے کہ اتنا وجود تو خدا تعالیٰ کا تسلیم کرتے ہیں۔آئندہ کے متعلق ان میں سے بعض کا خیال ہے کہ چونکہ اس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور دنیا میں بھیجا ہے اس لئے اگر اس کے احکام کی تعمیل نہ کی جائے گی تو سزا دے گا۔بعض کہتے ہیں خدا کا سزا سے کیا تعلق ؟ کیا ہماری یہ مہربانی کم ہے کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ اس نے ہمیں پیدا کیااگر ہم اس کےدس بیس احکام نہیں مانتےتو سزا کیسی؟اس لئے وہکہتے ہیں کہ ہم اس کےجواحکام مانتے ہیں ان کا انعام دے گا اور جو نہیں مانتے ان کی سزا نہیں دے گا۔یورپ کے ایک فلاسفر سل ۴نےصرف انعام دینےوالے اصل پر بڑا زور دیا ہے۔بعض لوگوں نے اس کے سزا کی نفی پر بہت ہی زور دینے کی یہ وجہ لکھی ہے کہ اس کے اعصاب بہت تیز تھے اور وہ درد بہت زیادہ محسوس کرتا تھا اس لئے اس کی طبیعت اس امر کو مان ہی نہیں سکتی تھی کہ خدا عذاب بھی سے سکتا ہے۔پس اس نےبدی کی سزا تو انکار کردیا اورنیکی کے انعام کو قائم رکھا۔مسیحیوں کا خدا کے متعلق خیال اب میں مختلف مذاہب کے پیش کردہ خیالات کو ایک ایک کرکے لیتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ وہ خدا تعالیٰ