انوارالعلوم (جلد 6) — Page 342
انوار العلوم جلد 4 ۳۴۲ هستی باری تعالی میں زیادہ ہے بالکل غلط ہے ۔ شرک کے رد میں تو خاص خاص آیتیں ہیں اور دہریت کے رد میں قرآن کریم کی ہر ایک آیت ہے اور جب ہر آیت قرآن دہریت کا رد ہے تو الگ ذکر کی کیا ضرورت تھی ؟ لیکن حق یہ ہے کہ قرآن کریم میں دہریت کے رد کے دلائل الگ بھی بیان ہیں جیسا کہ شروع مضمون میں ہم نے بیان کیا ہے کہ گو ان کا نام کوئی نہیں رکھا گیا کیونکہ دہریے خود اپنا نام کوئی تجویز نہیں کرتے ۔ خدا تعالیٰ کی ہستی کو مان لینے کے بعد کی حالت ہستی باری تعالیٰ کا ثبوت دینے ر اس کے متعلق جو اعتراض کئے جاتے ہیں ان کو دور کرنے کے بعد ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جو مقام حیرت کہلاتا ہے کیونکہ کی شخص پر یہ ثابت ہو جائے کہ میرا پیدا کرنے والا کوئی موجود ہے تو اس کے دل میں کیونکرسی پر یہ ہوجانے کہ پیدا کوئی موجود ہے تو اس دل قدر تا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون ہے ، کیسا ہے ، میرا اس سے کیا تعلق ہے ؟ اور مجھے اس سے کس طرح معاملہ کرنا چاہئے ؟ غرض بیٹیوں سوالات اور خواہشات معادل میں پیدا ہو معاملہ کرنا اور جاتی ہیں اور ان سوالات کے جواب دیئے بغیر ہستی باری تعالیٰ کا مضمون مکمل نہیں ہو سکتا۔ پس اب میں ان سوالات کو جو خدا تعالیٰ کو مان کر انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں یا کم سے کم ان میں سے بڑے بڑے سوالات کو لیکر ایک ایک کر کے جواب دیتا ہوں ۔ جب انسان کسی چیز کا علم حاصل کرتا ہے تو سب سے پہلے اس کا نام معلوم خدا تعالیٰ کا نام کرنے کی اس کے دل میں خواہش ہوتی ہے۔ نہیں میں اسی سوال کو پہلے لیتا ہوں کہ کیا خدا کا کوئی ذاتی نام بھی ہے انسانی فطرت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ انسان بلا نام کے کسی چیز کو اپنے ذہن میں لانے سے بہت حد تک قاصر رہتا ہے مگر عجیب بات ہے کہ سوائے اسلام کے اور کسی مذہب میں خدا کا ذاتی نام کوئی نہیں۔ نہ یہودیوں میں ، نہ عیسائیوں میں ، نہ بدھوں میں ، نہ ہندووں میں ، نہ زرتشتیوں میں ، نہ کسی اور مذہب ہیں ۔ صرف صفاتی نام ہیں جیسے ہندوؤں میں " پر ماتما " کا لفظ ہے۔ یعنی بڑی آتما - پرم الیشور یعنی بڑا ایشور - ان ناموں سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کو بھی وہ دنیا کا ہی ایک حصہ قرار دیتے ہیں جو گو بڑا ہے مگر دنیا سے کوئی الگ چیز نہیں۔ اسی طرح زرتشتیوں میں جو نام ہیں وہ بھی صفاتی نام ہیں یعنی ان کے معنی ہوتے ہیں اور خدا کے متعلق وہ اسی قدر دلالت کرتے ہیں جو کچھ ان کے معنوں