انوارالعلوم (جلد 6) — Page 340
کرنا ایک دہریہ کیلئے بدی ہونا چاہئےاور وہ روپیہ جو ان پر خرچ کیاجاتا ہے اس کا اپنی ذات پر خرچ کرنا نیکی ہونا چاہئے۔لیکن دہریہ عملاً ایسا نہیں کرتا وہ بھی ماں باپ سے نیک سلوک کرتا ہے حالانکہ عقلاً یہ کام صرف خدا کا ماننے والا کرسکتا ہے۔کیونکہ وہ شکر گزاری کو نیکی سمجھتا ہے اورشکر گزاری صرف خدا کو مان کر ہی نیکی کہلا سکتی ہے۔اسکے علاوہ اوربہت سی نیکیاں ہیں جو صرف اسی تعریف کے ماتحت نیکی کہلا سکتی ہیں کہ ایک کامل وجود ہے جو اپنےحسن میں بے مثل ہے۔اسکی مشابہت پیدا کرنا ہمارے لئے ضروری ہے ورنہ فائدہ اور خوشی کے لحاظ سے وہ نیکیاں نہیں کہلا سکتیں اور جس قدر نیکیاں کہ جان کی قربانیاں یا ساری عمر کے آرام کی قربانیاں چاہتی ہیں وہ سب اسی تعریف کے ماتحت نیکیاں کہلا سکتی ہیں۔پس خدا پرست ہی کیلئے موقع ہے کہ وہ کامل نیک ہوسکے۔جو خدا کو نہیں مانتا اگر وہ اپنے دعویٰ کے مطابق عمل کرے تو اس کیلئے نیک بننے کی کوئی صورت ہی نہیں۔مگر عجیب بات ہے کہ دہریہ خدا کے ماننے والوں کے اخلاق پر تو اعتراض کرجاتا ہے مگر جہاں اس کی تعریف نیکی کی رہ جاتی ہے وہاں وہ اپنے دعویٰ کے خلاف خدا کو ماننے والے کی تعریف کے مطابق نیکی کرکے اپنی ضمیر کو خاموش کرنا چاہتا ہے گو اس کا عمل اس کے دعویٰ کو رد کر رہا ہوتا ہے۔ادنیٰ کے لئے اعلیٰ قُربانی خدا تعالیٰ کے منکرین اللہ تعالیٰ کے وجود کے خلاف ایک یہ اعتراض بھی پیش کیا کرتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ ہو تا تو ہمیں یہ بات نہ نظر آتی کہ اعلیٰ چیزیں ادنیٰ پر قربان کی جاتی ہیں جیسے مچھر اور طاعون کےکیڑے ہیں کہ ان کی پرورش انسان کی قربانی پر ہو رہی ہے۔پس معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کی تدبیر کسی بالا رادہ ہستی کے حکم کے ماتحت نہیں ہورہی۔اس بات کی تفصیل کہ مچھر اور ٹِڈی وغیرہ کیوں پیدا کئے گئے ہیں۔تو میں آگے بیان کروں گا فی الحال اس سوال کا جواب دیتا ہوں جو ادنیٰ پر اعلیٰ قربان ہونے کے متعلق کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا کا نظام اور انسان کے پیدا کرنےکی غرض اسی طرحپوری ہوسکتی تھی کہ انسان مرتا اور یہ چیزیں انسان کے مارنے کےذرائع میں سے بعض ذریعے ہیں۔پس چونکہ انسان کا مرنا اس کی ترقیات کیلئے ضروری تھا۔اس لئے بعض ذرائع اس کی موت کے لئے پیدا کئے جانے بھی ضروری تھے۔پس ان کیڑوں کےذریعہ سے ادنیٰ پر اعلیٰ قربان نہیں ہورہا بلکہ اعلیٰ کو اعلیٰ مقام پر لے جایا جاتا ہے۔قرآن میں دہریت کا کیوں ردّ نہیں دہریہ لوگ مذاہب پر ایک اور بھی سوال کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اگر خدا ہے تو اسے سب سے