انوارالعلوم (جلد 6) — Page 339
ان کے بدلے میں جنت ملے گی۔تو یہ تو ایک قسم کا شرک ہوجائے گااور اسلام کی رُوح کے خلاف ہوگا۔مؤمن تو اس لئے نیکی کرتا اوربدی سے بچتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ نیکی اپنی ذات میں حسن رکھتی ہے اور بدی عیب۔اور عبادات کی قسم کی نیکیاں وہ اس لئے کرتا ہے کہ اس پر خدا تعالیٰ کے بہت سے احسانات ہیں۔وہ نماز اس لئے نہیں پڑھتا کہ جنت ملے گی یا روزہ اس لئے نہیں رکھتا کہ دوزخ کا اسے ڈر ہوتا ہے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی جو عبادت بھی کرتا ہے۔وہ اس لئے کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے پیدا کیا اور اپنی صفت ربوبیت اور رحمانیت کےماتحت اس پر احسان کئے۔گویامؤمن کو آئندہ کی لالچ مدّنظر نہیں ہوتی بلکہ پچھلے احسانوں اور انعاموں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا مقصودہوتا ہے۔نماز میں مؤمن کیا کہتا ہے؟ یہی ناں کہا الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ مٰلكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔(الفاتحہ: ۲ تا ۴) ن آیات میں دیکھ لو کہ اکثر حصہ پچھلے انعامات کے شکریہ کے متعلق ہی ہے اور آئندہ کا ذکر صرف اختصار کے ساتھ آیا ہے پس مؤمن کی عبادات بطور شکریہ ہوتی ہیں نہ بغرض لالچ۔اورشکر گذاری کو دنیا کی کوئی قوم بھی برا نہیں کہتی بلکہ سب ہی اسے مستحسن فعل سمجھتے ہیں۔باقی رہا یہ سوال کہ مذاہب میں نیک کاموں کے بدلہ میں ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے سو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کا معاملہ اس کے اختیار میں ہے اس کے بدلہ دینے کے یہ معنی نہیں کہ مؤمن اس بدلہ کے لئے یہ کام کرتا ہے ایک دوست دوسرے دوست کو ملنے جاتا ہے تو وہ اس کی خاطر کرتا ہے اور سب ہی جانتے ہیں کہ جب دوست دوست کے پاس جائے گا تو اس کی خاطر بھی ہوگی مگر کوئی نہیں کہتا کہ دوست اس لئے دوست سے ملنے گیا تھا کہ تا اسے اچھے اچھے کھانے کھلائے جائیں۔اس کا جانا محبت کی وجہ سے تھا اور دوسرے کا اس کی خاطر کرنا بھی اپنی محبت کے تقاضے سے تھا۔مکمل نیکی خدا کو ماننے والا ہی کرسکتا ہے چوتھا جواب یہ ہے کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو نیکی کے جس درجہ تک خدا کو ماننے والا پہنچ سکتا ہے دوسرا انسان پہنچ ہی نہیں سکتا نہ دوسرا کوئی شخص ان تمام اقسام کی نیکیوں کو سمجھ سکتا ہے جو ایک خدا پرست کرتا ہے اس لئے کہ کئی نیکیاں ایسی ہیں کہ جن کے کرنے میںکرنے والے کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوتا۔جیسا کہ مَیں نے پہلے بتایا ہے کہ ماں باپ سے نیک سلوک کرنا بچے کے لئے کسی رنگ میں بھی مفید نہیں ہوسکتا۔پس ان کے آرام کے لئے تکلیف اُٹھانا یا ان پر مال خرچ *الفاتحہ ۲،۴