انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 242

کا سلسلہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی بیعت بھی انہوں نے بطور خلیفہ کے نہ کی تھی بلکہ بطور ایک پِیراور صوفی کے اور یہ کہ مولوی محمد علی صاحب کو معلوم نہیں کہ کون خلیفہ ہوگا؟ بلکہ صرف بطور خیر خواہی کے وہ کہتے ہیں کہ آئندہ خلیفہ نہ مقرر ہو اور یہ کہ میاں صاحب(یعنی مصنف رسالہ) غیر احمدیوں کو کافر کہتا ہے اور یہ درست نہیں اور تقویٰ کے خلاف ہے اور یہ کہ اگر کوئی شخص جماعت کا سربرآوردہ بنایا جاوے تو وہ ایسا شخص ہونا چاہئے جو غیر احمدیوں کو کافر نہ کہتا ہو۔کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح کا جانیشن متقی ہونا چاہئے اورغیر احمدیوں کو کافر کہنے والا متقی نہیں اور میں اہل بیت اور حضرت مسیح موعودؑ کے دیگر صحابہ کا خیر خواہ اور ان کا احترام کرنے والا ہوں۔یہ مضمون جو کچھ ظاہر کرتا ہے۔اس پر اس جگہ کچھ لکھنے کی مجھے ضرورت نہیں۔ہر ایک شخص ادنیٰ تامّل سے اس مضمون کا بین السطور مدعا خود سمجھ سکتا ہے۔مولوی محمد علی صاحب کی مغالطہ دہی کا انکشاف جس وقت یہ ٹریکٹ مَیں نے دیکھا مَیں حیران ہوگیا اور میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی کیونکہ ابھی دو دن نہ گزرے تھے کہ میرے اس ارادہ پر کہ جماعت میں اعلان کیا جاوے کہ اختلافی مسائل میں اس وقت تک بحث نہ کریں جب تک کہ کوئی سردار ہم میں ایسا نہ ہو جو نگرانی کرسکے اور افراط اور تفریط کو رک سکے۔مولوی محمد علی صاحب نے یہ مشورہ دیا تھا کہ چونکہ بیرونجات کے لوگ ان جھگڑوں سے ہی ناواقف ہیں اس لئے ان کو اس اشتہار سے ابتلاء آئے گا اور آج اس ٹریکٹ سے معلوم ہوا کہ نہ صرف اشتہار بلکہ ایک ٹریکٹ لکھ کر مولوی محمد علی صاحب پہلے سے لاہو ر چھپنے کے لئے بھیج چکے تھے اورنہ صرف اسے خود شائع کرانے کا ارادہ تھا بلکہ اس کے اوپر تمام احمدیوں کو ہدایت لکھی گئی تھے کہ وہ اس ٹریکٹ کو ’’دوسروں تک پہنچادیں‘‘ یہ بات میری سمجھ سے بالا تھی اور مَیں حیران تھا کہ میں مولوی محمد علی صاحب کی نسبت کیا سمجھوں؟ جو شخص دو دن پہلے مجھے اس امر کے اعلان سے کہ اختلافی مسائل پر آپس میں اس وقت تک بحث نہ کرو کہ کوئی نگران تم میں سے موجود ہو اس لئے روکتا تھا کہ اس سے لوگوں کو ابتلاء آجائےگا اوروہ خیال کریں گے کہ ہمارا آپس میں اختلاف ہے وہ اس سے ایک ہفتہ پہلے خود ایک ٹریکٹ اختلافی مسائل پر لکھ کر چھپنے اور شائع کئے جانے کے لئے لاہور بھیج چکا تھا۔کیا یہ فعل تقویٰ کا فعل تھا؟ کیا مولوی محمد علی صاحب کے اس فعل میں خدا تعالیٰ کے خوف کو پسِ پُشت نہ ڈال دیا گیا تھا؟ ہاں کیا ان کا یہ طریق عمل اسی