انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 243

تعلیم کے ماتحت تھا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔جس کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔جس کی طرف مسیح موعودؑنے رہنمائی کی ہے جس پر عمل در آمد کرنےکے لئے انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے ہاتھ پر دوبارہ عہد کیا تھا۔مولوی محمد علی صاحب کی غرض صرف وقت گزارنے کی تھی۔ان کی غرض مجھے روکنے سے جماعت کو ابتلاء سے بچانا نہیں اس کو ابتلاء میں ڈالنا تھی۔کیونکہ کیا وہ اس سے پہلے اختلافی مسائل پر ایک ٹریکٹ لکھ کر اسے خفیہ خفیہ طبع ہونے کے لئے لاہور نہیں بھیج چکے تھے؟ کیا جماعت کو اختلافی بحثوں میں پڑنے سے روکنے پر تو اس کو علم ہوجاتا تھا کہ ہم میں آپس میں اختلاف ہے اور اس کے ابتلاء میں پڑجانے کا ڈر تھا؟ لیکن خود اختلافی مسائل پر ٹریکٹ لکھنے جماعت کے ایک حصہ کو غیر متقی قرار دینے پر سازشوں کا الزام لگانےسے کسی فتنہ اور ابتلاء کا ڈر نہ تھا اورنہ کسی کو اس ٹریکٹ کے پڑھنے سے اندرونی اختلاف کا علم ہوسکتا تھا۔مولوی صاحب جانتے تھے کہ اگر انہوں نے اس ٹریکٹ پر دستخط کردئیے۔تو دنیا ان سے دریافت کرے گی کہ خود انہوں نے کیوں ایسا ٹریکٹ لکھ کر شائع کیا تھا اوران سے کہے گی کہ اَتَامُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ (البقرۃ: ۴۵) لیکن دوسری طرف وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اس اشتہار کے مضمون میں جو میں شائع کرنا چاہتا تھا کوئی ایسی بات نہ تھی جس پر وہ گرفت کرسکیں۔پس انہوں نے اس وقت اس بہانہ سے اپنی جان بچانی چاہی۔اگر وہ دیانت داری سے کام لیتے تو اگر وہ اشتہار کے مضمون سے متفق تھے۔جیسا کہ اس وقت انہوں نے ظاہر کیا تھا تو اپنے پہلے ٹریکٹ کو واپس منگوالیتے اوراس کو شائع نہ کرتے اور اگر اس سے اختلاف رکھتے تھے تو مجھے یہ جواب دیتے کہ اختلاف سے جماعت کو واقف کرنا نہایت ضروری ہے چنانچہ میں خود ایک ٹریکٹ لکھ کر چھپنے اور شائع ہونے کے لئے لاہور بھیج چکا ہوں اس لئے مَیں اس اشتہار پر دستخط نہیں کرسکتا۔مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔انہوں نے اس اشتہار پر پسندیدگی کا اظہار کیا لیکن مجھے اس کی اشاعت سے رُکنے کا مشورہ اس بناء پر دیا کہ لوگوں کو اختلاف کا علم ہوگا اور خود ایک ٹریکٹ لکھا جس میں یہاں تک لکھ دیا کہ ہمارااختلاف اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ ایک فریق دوسرے کی نسبت کہتا ہے کہ وہ کافر اور واجب القتل قرار نہیں دیا۔گو ان کو شوق ضرور ہے کہ اپنی نسبت ایسا فتویٰ حاصل کریں جیسا کہ پچھلے دنوں تشحیذ الاذہان