انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 241

ہو۔پس آپ اس سوال کو جانے دیں کہ خلیفہ ہو یا نہ ہو۔مشورہ اس امر کے متعلق ہونا چاہئے کہ خلیفہ کون ہو؟ اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ اس میںدقّت ہے۔چونکہ عقائد کا اختلاف ہے اس لئے تعیین میں اختلاف ہوگا ہم لوگ کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر کیونکر بیعت کرسکتے ہیں؟ جس کے ساتھ ہمیں ایک دوسرے کی بیعت سے روکے۔(اس وقت تک اختلاف عقائد نے اس طرح سختی کا رنگ نہ پکڑا تھا۔) لیکن بہر حال ہم اس امر کے لئے تیار ہیں کہ آپ میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلیں۔اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ یہ مشکل ہے آپ سوچ لیں اور مشورہ کرلیں اور کل پھر گفتگو ہوجاوے۔مَیں نے بھی ان سے درخواست کی کہ آپ بھی میرے خیالات کے متعلق اپنے دوستوں سے مشورہ کرلیں اورپھر مجھے بتائیں تاکہ دوبارہ گفتگو ہوجاوے۔پس ہم دونوں جُدا ہوگئے۔خلافت سے انکار نہیں ہوسکتا رات کے وقت مَیں نے اپنے دوستوں کو جمع کیا اوران کو سب گفتگو سنائی سب نےاس امر کا مشورہ دیا کہ خلافت سے انکار تو چونکہ مذہباً جائز نہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو خلفاء کا انکار کرتا ہے وہ فاسق ہے اور خلافت کو اپنی نعمت قرار دیتا ہے۔اس نعمت کو چھوڑنا تو جائز نہیں۔مَیں نے ان کو بتایا کہ مولوی صاحب کی باتوں سے میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس امر پر زور دیںگے۔مگر یہی رائے قرار پائی کی یہ ایک مذہبی بات ہے جس کو دوسروں کے لئے قربان نہیں کیاجاسکتا۔وہ لوگ ایک خلیفہ بیعت کرچکے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کےنزدیک بیعت جائز تو ہے حرام نہیں اور ہمارے نزدیک بیعت نہ کرنا اورخود خلافت کو چھوڑ دینا حرام ہے۔پس جب وہ اس امر کے انکار میں جسے وہ جائز سمجھتے ہیں اسقدر مصر ہیں تو ہم اس بات کو جسے ہم فرض سمجھتے ہیں کیونک ترک کرسکتے ہیں؟ اس پر مجلس برخواست ہوگئی۔حضرت خلیفہ اول کی وفات پر مولوی محمد علی صاحب کا ٹریکٹ جیسا کہ میں نے پہلے دن تاکید کی تھی۔بہت سے لوگوں نے روزہ رکھنے کی تیاری کی ہوئی تھی۔جن لوگوں کو تہجد کیلئے اُٹھنے کا موقع نہیں ملا کرتاتھا انہوں نے بھی نماز تہجد ادا کرنے کاتہیہ کیا ہوا تھا۔دو بجے کے قریب میں اُٹھا اور نماز تہجد ادا کرنے کی تیاری کی۔ابھی میں وضو کررہا تھا کہ ایک شخص نے میرے ہاتھ میں ایک ٹریکٹ دیا اور کہا کہ یہ ٹریکٹ تمام راستہ میں بیرون جات سے آنیوالے احمدیوں میں تقسیم کیا گیا ہے جب میں نے اس ٹریکٹ کو دیکھا تو وہ مولوی محمد علی صاحب کا لکھا ہوا تھا اوراس میں جماعت کو اُکسایا گیا تھا کہ آئندہ خلافت