انوارالعلوم (جلد 6) — Page 4
الوابر العلوم جلد الله له ضرورت مذہب یہ مذہب سے لا پروائی کی وجہ میرے نزدیک مذہب سے لا پروائی کی وجہ ہے کہ مہرب پر غور کرتے ہوئے محدود نظر سے کام لیا جاتا ہے۔ لوگ ایسے کام تو کرتے ہیں۔ جو بظاہر ان کے لئے مال حاصل ہونے کا ذریعہ نظر آتے ہیں لیکن مذہب میں چونکہ یہ بات تو جو ہونے کا ذریعہ نظر نہیں آتی اس لئے گو اس کو مانتے ہیں مگر محض اس لئے کہ وہ ماں باپ سے سنتے ہیں پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ مذہب کے لئے بہت دفعہ ان کو مال قربان کرنا پڑتا ہے اس لئے اس زمانہ میں کہ لوگوں کی طبیعتیں مادیت کی طرف مائل ہیں مذہب سے متنفر ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مذہب میں فائدہ نہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ مذہب کو استعمال ہی نہیں کیا جاتا ۔ یا اگر استعمال کیا جاتا ہے تو غلط طریق سے پس جب مذہب کو استعمال ہی نہ کریں اور اپنی نا واقفیت اور نادانی سے اسے چھوڑ بیٹھیں تو اس کا فائدہ کیا ہو۔ عقلمندی یہ ہے کہ جس چیز کا فائدہ ثابت ہو اُسے ضرور استعمال کرنا چاہئے ۔ دیکھو بہت سی اشیاء تھیں جن کا استعمال کرنا لوگوں نے چھوڑ دیا تھا۔ مگر جب سائنس نے ان کا فائدہ ثابت کر دیا تو ان کو قبول کر لیا گیا ۔ چنانچہ ہم طب میں ہی دیکھتے ہیں کہ اسپغول یونانی اطباء مدتوں سے استعمال کرتے تھے اور پیچش میں مفید بتاتے تھے مگر ڈاکٹروں نے اس کے ان فوائد کا انکار کر دیا۔ لیکن جب ان کو فوائد معلوم ہوئے تو انھوں نے دوبارہ استعمال شروع کر دیا۔ جو لوگ مذہب پر عمل کرتے ہیں مگر ان کے عمل کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا ان کا طریق عمل غلط ہوتا ہے۔ تاہم وہ اگر چھوڑتے ہیں توکہا جا سکتا ہےکہ اپنی طرف سے کوشش کرنے کے بعد انھوں نے چھوڑا ہے لیکن جو لوگ مذہب کو غلط جان کر اس کا انکار نہیں کر سکتے وہ قابل عزت نہیں ہو سکتے اور اگر دیکھا جائے تو ایسے ہی لوگ بکثرت اہل مذاہب میں پائے جاتے ہیں۔ پیس کسی چیز کے متعلق یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کا طریق استعمال تو طریق استعمال کو دیکھنا چاہئے غلط نہیں۔ اگر صحیح طریق کے باوجود نتیجہ برا نکلے تو وہ چیز خراب ہے اور اگر غلط طریق استعمال سے برا نتیجہ ہو تو وہ چیز بری نہیں ہوگی ۔ دیکھو کونین موسمی بخار میں مفید ہے۔ لیکن اگر محرقہ بخار میں دیگر اس کی خوبی کا کوئی انکار کرے تو وہ غلطی کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں ہمارے ملک میں بہت سی چیزوں کو ردی سمجھ کر ضائع کیا جاتا تھا ، مگر یورپ نے ان سے فوائد اٹھائے ہیں۔ چنانچہ ہندوستان میں بانس کے جنگل ہوتے ہیں جو کہ ضائع ہی جاتے تھے لیکن یورپ نے بانس سے کاغذ بنایا اور عمدہ طریق سے استعمال کر کے فائدہ اُٹھایا۔