انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 160

انوار العلوم جلد ۱۶۰ آئینه صداقت پیچدار عبارتوں کی وجہ سے اسے سمجھا نہیں۔ پس حضرت خلیفہ مسیح کا یہ فرمانا کہ اس امر کو میں بھی نہیں سمجھا۔ بالکل درست تھا۔ میں اب تک بھی نہیں سمجھ سکا کہ ایسا کیونکر ہوا اور آخر تطبیق کے لئے بعض تاویلات کرنی پڑتی ہیں۔ اور قلت کو کثرت اور متشابہ کو محکم کے ماتحت لانا پڑتا ہے ۔ مگر آپ کے اس قول سے یہ کیونکر نتیجہ نکلا کہ میں مسئلہ کفر و اسلام کو نہیں سمجھا۔ کیا اگر کوئی شخص اس امر کو نہ سمجھ سکے کہ کیوں حضرت خلیفہ المسیح نے ایک ایسے شخص کی بھی تصدیق کی جس نے غیر احمدیوں کو کا فر قرار دیا تھا اور پھر ایک ایسے شخص کے مضمون پر بھی دستخط کر دیے جس نے اس پہلے مضمون کے اثر کو زائل کرنا چاہا تھا۔ تو کیا ضروری ہے کہ وہ کفر و اسلام کے مسئلہ کو بھی نہ سمجھ سکے۔ بیشک قرآن کریم میں ایک قوم کی نسبت یہ لکھا ہے کہ يُعْرِفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ (النساء : ۴۷ مگر مولوی صاحب سے اُمید ز تھی کہ وہ ایسی تحریف سے کام لیں گے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرے اور ان کی آنکھیں کھولے ۔ پھر سوچنے والے کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ حضرت خلیفہ ایچ نے تو یہ فرمایا تھا کہ لوگ اس بات کو نہیں سمجھے حتی کہ ہمارے میاں بھی نہیں سمجھے ۔ اس فقرہ کے الفاظ سے بھی تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ میں سب احمدیوں میں سے زیادہ سمجھنے کا حق رکھتا تھا اور جب میں کبھی نہیں سمجھا تو دوسرے کسی نے کیونکر سمجھنا ہے پس مولوی صاحب کا اس فقرہ کو نقل کرنا ان کے لئے کیا مفید ہو سکتا ہے ۔ اس فقرہ سے یہ کہاں ثابت ہے کہ وہ مجھتے ہیں بلکہ جس مسئلہ کے متعلق یہ فقرہ کہا گیا ہے اس کے نہ سمجھنے کا فتویٰ تو سب پر لگتا ہے اور اگر مجھے اس میں تنبیہ ہے۔ تو مجھ سے زیادہ مولوی محمد علی صاحب کو ہے کیونکہ میرا ذکر تو لفظ بھی" کے بعد کیا گیا ہے اور ان کو عام لوگوں میں شامل کیا گیا ہے۔ مولوی صاحب نے اس جگہ یہ بھی ہوشیاری کی ہے کہ لفظ بھی" جس سے اس فقرہ کے اصل معنے کھلتے ہیں اُڑا دیا ہے حالانکہ خود ان کے اخبار پیغام صلح میں جہاں اور تحریفوں کے ساتھ یہ روایت شائع ہو چکی ہے وہاں بھی لفظ " بھی موجود ہے ۔ وہاں لکھا ہے۔ میاں نے بھی اس کو نہیں سمجھا اپیغام صلح ۳ مارچ ۱۹۱۴ ء صفحہ ۴ ) بلکہ خود مولوی محمد علی صاحب نے اپنے رسالہ کفر و اسلام میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس فقرہ میں بھی“ کا لفظ لکھا ہے پس یہ ایک اور ثبوت ہے مولوی صاحب کی عادت تحریف کا۔ مولوی صاحب کا یہ جرم اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد جبکہ ابھی خلافت کا سوال طے نہیں ہوا تھا۔ مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے مولوی صاحب نے اس واقعہ کو بیان کیا تھا اور میں نے ان سے کہا تھا کہ یوں نہیں یوں ہے اور اس وقت چونکہ تازہ بات تھی مولوی صاحب کو انکار کی جرأت نہ ہو سکی تھی اور دبی زبان سے اقرار کر کے وہ اور باتوں میں لگ گئے