انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 161

تھے اس کے بعدبھی ان لوگوں کی حلفیہ شہادتیں جو اس وقت موجود تھے لیکر شائع کردی گئی تھیں۔پس مولوی صاحب بھُول کا عذر نہیں کرسکتے۔واقعات اس امر پر شاہد ہیں کہ وہ جان بوجھ کر یہ تحریف کررہے ہیں۔وہ لوگ جو اس وقت موجود تھے ان میں سے بعض کی حلفیہ شہادتیں شائع ہوچکی ہیں۔اور مَیں بھی اس واقعہ پر حلف اُٹھانے کے لئے تیار ہوں۔کیا مولوی صاحب اور ان کے ہم خیال جو اس وقت موجود تھے وہ بھی اپنے بیان پر قسم اُٹھاسکتے ہیں؟ مَیں جانتا ہوں کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔بلکہ قسم قسم کے عذرات سے اپنےسر سے یہ بار اُتارنے کی کوشش کریں گے۔تاریخ اختلاف سلسلہ کا آٹھواں امر آٹھویں بات مولوی صاحب یہ تحریر فرماتے ہیں کہ یہ ٹریکٹ مَیں نے لکھا اور حضرت خلیفۃ المسیح کو سُنایا اور آپ نے اسے پسند فرمایا۔لیکن یہ ٹریکٹ آپ کی زندگی میں شائع نہیں کیا جاسکا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مولوی صاحب نے ایک ٹریکٹ مسئلہ کفر واسلام پر لکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح کو سنایا۔مگر یہ کہ آپ نے اسے پسند کیا ایک ایسا امر ہے۔جس کے قبول کرنےمیں ہمیں عذر ہے۔حضرت خلیفہ اول کی کوئی سند اس بیان کی تائید میں نہیں اور بیرونی اور اندرونی شہادتیں اس بیان کے خلاف ہیں۔چنانچہ بیرونی شہادت کے طور پر مَیں حافظ روشن علی صاحب اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب ایل۔ایم ایس کا بیان ذیل میں درج کرتا ہوں۔مولوی محمد علی صاحب کے رسالہ کفر واسلام کے متعلق واقعات روایت بزبان حافظ روشن علی صاحب ’’مجھے یاد ہےکہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے آخری ایام میں جبکہ آپ مرض الموت میں فریش تھے اور ۱۹۱۴؁ء غالباً فروری کا مہینہ تھا۔ابھی آپ اس مکان میں تشریف رکھتے تھے جو آپ کا ذاتی ہے جو اندرون قریہ قادیان واقع ہے کہ ایک دن دفتر الفضل میں ہمراہ صاحبزادہ بشیرالدین محمود احمد صاحب مَیں بیٹھا ہوا تھا کہ میرے استاد حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی تشریف لائے۔انہوں نے بیان کیا