انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 159

میں شائع بھی کرچکا ہوں۔جو اس طرح ہے:- ’’میں اور چند اور احباب اور حضرت میاں صاحب حضرت خلیفۃ المسیح کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت نے اپنے سلسلہ کلام میں فرمایا‘‘ کہ ’’کفر و اسلام کا مسئلہ جو بڑا مشکل سمجھا جاتا ہے گو لوگ مجھے کہتے ہیں کہ یہ کبھی مسلم کہتا ہے اور کبھی کافر لیکن خدا نے مجھے اس میں وہ سمجھایا ہے جو کسی کو نہیں سمجھ آیا۔حتّٰی کہ میاں کو بھی سمجھ نہیں آیا اور میں خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ شہادت دیتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے یہی فرمایا تھا‘‘۔(مولوی سیّد محمد سرورشاہ صاحب پرنسپل مدرسہ دینیات) ’’مندرجہ بالا بیان جیاں تک مجھے یاد ہے بالکل درست ہے۔سوائے اس کے کہ مجھے کہتے ہیں کی بجائے آپ نے فرمایا تھا کہ لوگ مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ کبھی کافر کہتا ہے اور کبھی مسلمان ‘‘۔(مولوی شیر علی صاحب بی اے ایڈیٹر آف ریلجنز)’’مجھے جہاں تک یاد ہے حضرت خلیفۃ المسیح نے ترجمہ قرآن شریف سننے کے وقت جو مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں فرمایا تھا کہ مجھ پر بھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ کبھی میں غیر احمدیوں کو ) کافر کہتا ہوں اور کبھی مسلمان۔یہ دقیق مسئلہ ہے کسی نے نہیں سمجھا۔حتّی کہ میاں نے بھی نہیں سمجھا۔یہ مسئلہ بھی احمدیوں میں صاف ہونے کے قابل ہے‘‘(جناب خان راقم محمد علی خان)صاحب جاگیر دار مالیر کوٹلہ عم نواب صاحب مالیر کوٹلہ)’’حضرت خلیفۃ المسیح کی صحت دریافت کرنے کے لئے یہ خاکسار حضور کے مکان پر حاضر ہوادیکھا تو مولوی محمد علی صاحب ترجمہ القرآن کے نوٹس سنا رہے تھے اور حضرت کے سرہانے جناب حضرت صاحبزادہ صاحب بیٹھے تھے کہ حضرت اقدس نے فرمایا کہ میرے متعلق جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ کبھی غیر احمدیوں کو کافر کہتا ہے کبھی مسلمان یہ ایک باریک مسئلہ ہے جو ہمارے میاں نے بھی نہیں سمجھا‘‘٭ ( راقم مہر محمد خان مالیر کوٹلوی ثم قادیانی) پس حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نےجو کچھ فرمایا ہے۔اس میں کفر واسلام کے مسئلہ کے سمجھنے کا کوئی ذکر نہیں۔آپ نے تو یہ فرمایا تھا کہ آپ کی تحریرات میں لوگ اختلاف سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کبھی آپ غیر احمدیوں کو مسلمان کہتے ہیں کبھی کافر۔لیکن یہ ان لوگوں کی غلطی ہے۔ان عبارتوں کا وہ مطلب نہیں سمجھے اور اختلاف خیال کرلیا۔اور یہ غلطی جماعت کو ایسی لگی ہے کہ مَیں یعنی (یہ عاجز بھی اس میں مبتلا ہوں۔یہ بات حضرت خلیفۃ المسیح کی بالکل درست اور صحیح تھی اوراب تک ہے۔مَیں نے ابھی لکھا ہے کہ خواجہ صاحب کے مضمون کی تصدیق کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح کا اجازت تحریر کرنا سمجھ سے باہر ہے اور اس کی تاویل یہی ہوسکتی ہے کہ اگر آپ نے اس مضمون کو پڑھا ہے تو اس کی *القول الفصل مصنفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ۴۵ مطبوعہ قادیان ۱۹۱۵