انوارالعلوم (جلد 6) — Page 427
تو خدا کی حقیقی جلوہ گری کیوںنہ فائدہ دے گی؟ رویت الٰہی کا تیسرا فائدہ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ خدا کی تجلّی خارق عادت چیز ہوتی ہے۔ہوتی تو ایسی ہے کہ بندہ دیکھ سکے مگر اس کے ساتھ ایسی تأثیر ہوتی ہے کہ وہ قلوب کو منور اور روشن کردیتی ہے اور گویا مخفی اثرات کےذریعہ سے قلوب کو صاف کردیتی ہے۔پس رؤیت حقیقی کے بعد انسان اپنے اخلاق اوراپنی روحانیت کے اندر ایک نہایت ہی عظیم الشان تغیر پاتا ہے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف جذب ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے جیسا کہ انبیاء ؑو اولیاءؒ کا حال ہے یہ نتائج صرف رؤیت سے ہی پیدا ہوسکتے ہیں۔ہم خدا سے کس حد تک تعلق پیدا کرسکتے ہیں؟ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے ہم کس حد تک تعلق پیدا کرسکتے ہیں؟ یہ سوال گو ہستی باری تعالیٰ کی تحقیق کی ابتداء میں بھی پیدا ہوتا ہے مگر اس وقت اس کا باعث علمی تحقیق کا خیال ہوتا ہے مگر مذکورہ بالا تحقیق کے بعد دوبارہ یہی سوال انسان کے دل میں اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ اب وہ عمل کے ساتھ خدا تک پہنچناچاہتا ہے۔اس مقام پر پہنچ کر گویا انسان کی ایسی حالت ہوجاتی ہے کہ جیسے کسی کے سامنے زمین و آسمان کے خزانے کھول کر رکھ دئیے جائیں اور وہ پوچھے کہ ان سے کیا فائدہ حاصل کروں اور کہاں اور کس طرح خرچ کروں۔پس اب ہم یہ بات حل کرتے ہیں کہ خدا کی صفات کے غیر محدود خزانوں سے ہم کیا فائدہ اُٹھاسکتے ہیں اور کس طرح فائدہ اُٹھاسکتے ہیں؟ اوران کےذریعہ سے اپنی روحانی حالت کو کس حد تک درست کرسکتے ہیں؟ خدا تعالیٰ کی صفات کے گہرے علم سے ہمیں کیا فائدہ ہوتا ہے؟ پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ جس بندہ کو خدا کی صفات کا علم ہو خواہ وہ ایک حرف بھی نہ پڑھا ہوا ہو دنیا کا بڑے سے بڑا سائنسدان بھی اس کے مقابلہ میں کچھ نہیں ہوتا۔پس پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ ایسے شخص کے ہاتھ میں علم کا خزانہ آجاتا ہے جب تک کسی چیز کا پتہ نہ ہو تو اس کو استعمال کرنے کا خیال نہیں آتا۔مثلاً اگر یہ معلوم نہ ہو کہ۔بخار کا کوئی علاج ہے تو انسان علاج کرانےکی کوشش ہی نہیں کرے گا لیکن جب معلوم ہوجائے کہ علاج موجود ہے تو علاج کرنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی۔تو خدا کی صفات کے خزانوں کے معلوم ہونے سے انسان کے خیالات ہی بدل جاتے ہیں۔جس طرح ایک ایسا شخص