انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 428

جس کو معلوم ہو کہ اس کی بیماری کا علان ہے وہ دوائی لے کر استعمال کرے گا جس سے صحتیاب ہوجائیگا لیکن جس کو علاج ہی معلوم نہیں وہ گھر بیٹھا رہے گا اور اسی بیماری سے جس کا علاج کراکر صحتیاب ہوسکتا تھا مرجائے گا۔جیسے پہاڑی اقوام میں ہوتا ہے ان کے بیمار یونہی معمولی بیماری سے مرجاتے ہیں کیونکہ کوئی علاج نہیں کرتے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی صفات کا علم رکھنے والے کے لئے ہر وقت اپنی اصلاح اور روحانی ترقی کا دروازہ کھلا رہے گا لیکن جو ان صفات کا علم نہیں رکھتا وہ یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھا رہے گا اور روحانی ترقی کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوگی۔دوسرا نفع یہ ہے کہ جب انسان خدا کا غیر محدود جلوہ دیکھتے ہیں تو معلوم کرلیتے ہیں کہ علوم کا کوئی احاطہ نہیں بلکہ علوم غیر محدود ہیں اور کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ سائنس یا حساب یا ڈاکٹری یا انجینئرنگمیں جتنی ترقی ہونی تھی ہوچکی ہے بلکہ وہ سمجھے گا کہ چونکہ یہ علوم غیر محدود ہستی کی طرف سے آنے ہیں اسلئے انکی ترقی بھی کبھی ختم نہ ہوگی۔یہ سمجھ کر وہ کسی علم میں ترقی کرنے سے پیچھے نہ ہٹے گا۔مسلمانوں نے غلطی کی ہے کہ یونانیوں کی پیچھے چل کر کہہ دیا کہ فلاں علم بھی ختم ہوگیا اور فلاں بھی جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا قدم ترقی کی طرف سے ہٹ گیا اور آخر جہالت پیدا ہونے لگ گئی جو ایک جگہ ٹھہر جانے کا لازمی نتیجہ ہے۔اگر وہ خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کرتے تو آج ہر علم کے سب سے بڑے عالم دُنیا میں مسلمان ہی ہوتے۔پس خدا تعالیٰ کی صفات کے سمجھنے سے ایک عظیم الشان فائدہ یہ ہے کہ ایسا انسان کسی علم کو محدود نہیں قرار دے سکتا۔کوئی مسلمان علوم کو محدود نہیں مان سکتا اب مَیں اس امر کی مثالوں سے تشریح کرتا ہوں مثلاً بعض بیماریاں ایسی ہیں کہ ان کے علاج معلوم تھے اوربعض کے نہیں۔اور آج سے پہلے بعض بیماریوں کے متعلق کہا جاتا تھا کہ لا علان ہیں حالانکہ لا علاج کا لفظ ایک بے ہودہ لفظ ہے کیونکہ اگر خدا قادر مطلق ہے تو کوئی بیماری لاعلاج کس طرح ہوسکتی ہے؟ ہاں اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ فلاں بیماری کاعلاج ہمیں معلوم نہیں تو اور بات ہے ورنہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ فلاں بیماری کا کوئی علاج ہی ںہیں تو وہ مشرک ہے وہ خدا کو قادر مطلب نہیں مانتا۔آج تک بعض بیماریوں کے متعلق لوگ لکھتے چلے آئے ہیں کہ لا علاج ہیں۔لا علاج ہیں مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں یہ لوگ امی کہتے ہیں انہوں نے فرمایا مَا مِنْ دَاءٍ اِلَّا لَہٗ دَوَاءٌ اِلَّا الْمَوتَ ٭ *مسند احمد بن حنبل جلد ۴ ص ۲۷۸