انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 282

المواد العلوم جلد ۲۸۲ اسلام اور تربیت و مساوات اسلام کے بنیادی اصول کہلاتے ہیں ؟ جواب: - اشاعت اسلام کے اندر اُن تمام اصول کی اشاعت آجاتی ہے جو اسلام کے بنیادی اصول ہیں مگر ان اصول کی اشاعت اس میں نہیں آتی جو اصول اسلام کہلاتے ہیں جیسا کہ آپ نے تحریر کیا ہے۔اسلام کے بنیادی اُصول سوال ہے۔کیا توحید رسالت کے علاوہ اسلام کے کوئی : اور اصول بھی ہیں ؟ جواب :- اسلام کے بنیادی اُصول دو قسم کے ہیں۔ایک عقائد کے متعلق دوسرے اعمال کے متعلق۔عقائد کے متعلق یہ اُصول ہیں خدا کو ایک ماننا ، اس کے تمام نبیوں پر ایمان لانا ، قضا و قدر پرایمان لانا ، ملائکہ پر ایمان لانا ، خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی ان تمام وحیوں پر ایمان لانا جو اس کے انبیاء پر نازل ہوتی ہیں ، بعث بعد الموت پر ایمان لانا۔اعمال میں سے نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ اوامر کے بنیادی اصول ہیں۔اور قتل نہ کرنا، چوری نہ کرنا ، زنا نہ کرنا ، خیانت نہ کرنا نواہی کے۔اور اگر شرک کو اعمال میں داخل کیا جاوے تو اس صورت میں شرک بھی اعمال منبہیہ میں داخل ہوگا۔حریت اور مساوات سوال : کیا حریت اور مساوات کے زریں اصول اسلام کے بنیادی اصول نہیں ہیں۔اور کیا یہ ہر دو اصول اشاعت اسلام کے زمرہ میں داخل ہیں یا نہیں ؟ جواب :- حریت اور مساوات اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے نہیں ہیں۔خود یہ الفاظ ایسے مبہم ہیں کہ اپنی بعض تعریفوں کے لحاظ سے اچھے اخلاق بھی نہیں کہلا سکتے۔اس لئے حریت اور مساوات کی جب تک تعریف نہ کی جائے۔اس وقت تک نہیں کہا جا سکتا کہ اسلام انہیں جائز بھی قرار دیتا ہے یا نہیں ؟ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کے ذہن میں ان کی کیا تعریف ہے ؟ ہو سکتا ہے کہ کسی تعریف کے ماتحت ان دونوں امور کا خیال رکھنا ایک مسلم کے لئے ضروری ہو اور ہو سکتا ہے کہ ایک دوسری تعریف کے مطابق صرف جائز ہو اور ہو سکتا ہے کہ ایک تیسری تعریف کے مطابق نا جائز ہو۔شریعت میں مساوات کی تو کوئی اصطلاح ہی نہیں۔حُر کی ایک اصطلاح ہے جس کے یہ معنے قرآن اور حدیث کی رو سے معلوم ہوتے ہیں کہ جو شخص ان افعال میں جو افراد کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں حکومت کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے مختار ہو۔وہ اپنے مال کا خود مالک ہو افراد رعایا میں سے کوئی شخص