انوارالعلوم (جلد 5) — Page 46
انوار العلوم جلد ۵ کی ہتک ہے۔مگر ہم کہتے ہیں کہ اگر کوئی ایسا نبی ہونے کا دعوی کرے جو صاحب شریعت ہو اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کرے تو بے شک اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے لیکن اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے کسی کو بطور اعزاز کے یہ درجہ اور رتبہ دیا جائے تو اس میں آپ کی ہتک نہیں۔بلکہ عزت ہے۔دیکھو دنیا میں اسی انسان کی بڑی عزت سمجھی جاتی ہے ، جس کے ماتحت بڑے بڑے درجہ کے انسان ہوں۔ایک کمانڈر انچیف کیوں بڑا ہوتا ہے اس لئے کہ کئی جنرل اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔اسی طرح ایک جنرل کیوں بڑا ہوتا ہے اسی لئے کہ کئی کرنل اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔تو بڑے کی تعریف ہی یہ ہے کہ بڑے بڑے اس کے ماتحت ہوں۔نہ یہ کہ بڑے بڑے تو مر جاتیں اور جو پیچھے رہے وہ کہنے کہ میں بڑا ہوں۔یوں تو مردوں میں بھی ایک بچہ بہادر کہلا سکتا ہے، لیکن کیا واقع میں وہ بہادر ہوتا ہے۔بڑا بہا دراصل میں وہی ہوتا ہے جو کئی بہادروں سے بڑا ہو ایک بچہ مردوں کے منہ پر طمانچے مار کر یہ نہیں کہ سکتا کہ میں بڑا بہادر ہوں۔بہادر وہی ہوتا ہے جو دوسرے بہادر کے سینہ پر چڑھ بیٹھے۔اسی طرح مدرسہ کون سا اعلیٰ سمجھا جاتا ہے وہی جس میں لڑکا پڑھ کہ دوسرے مدرسوں کے لڑکوں کے مقابلہ میں زیادہ لائق ثابت ہو سکے۔اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے فضیلت دی ہے اور میں قیامت کے دن اپنی امت پر فخر کروں گا۔اس کے متعلق یہ دیکھنا چاہتے کہ آپ کسی بات پر فخر کریں گے اور وہ کون سی بات ہے جو اور کسی امت کو نہیں دی گئی مگر آپ کی اُمت کو دی گئی۔یہی ہے کہ دوسرے انبیاء کے امتیوں میں مجدد اور صلح تو ہوتے رہے ہیں۔لیکن کوئی نہیں ہوا تو نبی نہیں ہوا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہی فخر کی بات ہے کہ یہ درجہ آپ کے غلاموں میں سے کسی کو حاصل ہو تاکہ اس طرح آپ کی عزت اور عظمت بڑھے۔پھر آپ کی اُمت میں سے کسی کے نبی ہونے کی ایک اور بھی وجہ ہے۔اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی کیا ہے کہ لَوْ كَانَ مُوسى وَعِيْلى حَيَّيُنِ مَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتباعى اليواقيت والجواهر موقفه امام عبدالوہاب شعرانی مد ۲ مطبوعہ مصر (۱۳۲) اگر مولتی اور علی زندہ ہوتے تو ان کے لئے سوائے اس کے چارا نہ تھا کہ میری اطاعت کرتے۔یہ ایک دعوی ہے جس کے متعلق دشمن اعتراض کر سکتا ہے کہ ایسا دعوای کرنا جس کا کوئی ثبوت نہ ہو بہادری نہیں ہے۔اس اعتراض کا جواب دینا ضروری تھا اور اسی طرح دیا جا سکتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے اسی درجہ اور رتبہ کا انسان بھیج دیا جاتے جو حضرت موسیٰ اور عیسی کا درجہ تھا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا