انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 47

صداقت انوار العلوم جلد ۵ بام یہ دعوی سچا کرنے کے لئے موٹی اور عیسی زندہ ہوتے تو میری اتباع کرتے ضروری تھا کہ ایک شخص تو آپ کی امت میں سے کھڑا کیا جاتا جو ان کے درجہ پر پہنچ کر یہ کہنا کہ میں محمدصلی الہ علیہ وسلم کا غلام ہوں اور ان سے ایک قدم دُوری میرے لئے ہلاکت اور تباہی ہے۔کیونکہ جب آپ کی امت میں سے کوئی ایسا شخص کھڑا ہو تب آپ کا دعوی سچا ثابت ہو سکتا ہے۔ورنہ اس کے بغیر آپ کا دعوی یونسی تھا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ ولم کو سچا ثابت کرنے کے لئے ضروری تھا کہ آپ کی اُمت میں سے کسی کو نبوت کا درجہ دیا جاتا۔اب ہیں یہ دیکھنا چاہتے کہ وہ شخص جس نے اس زمانہ دعوی نبوت پر اعزاز خیر البشر میں تبت کا دعوی کیا ہے اس نے اگر اپنے قول اور فعل سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ثابت کی ہے یا آپ کی ہتک کی ہے۔اگر اس کے عمل سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ثابت ہو تو اسے قبول کرنا چاہئے ورنہ رد کر دینا چاہئے۔اس زمانہ میں اسلام کی جو حالت ہو رہی ہے اس سے ظاہر ہے کہ اس پر تباہی آرہی ہے ایسی خص حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی مصلح کا آنا ضروری تھا۔مگر سوائے اس کے اور کوئی ایسا نہیں ملتا جس نے خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے کا دعوی کیا ہو۔اب وہ بھی سنیچا نہیں بلکہ جھوٹا ہے اور (نعوذ باللہ ، دجال ہے تو یہی کہا جائے گا کہ بجاتے اس کے کہ خدائے تعالیٰ ایسی نازک حالت میں اسلام کی مدد کرتا اس نے بھیجا تو ایک دنبال کو بھیجا۔حالت تو یہ ہو کہ ایک مریض مر رہا ہو اس وقت چاہتے تو یہ کہ اسے ایسی دوا دی جاتے جس سے وہ شفا پاتے لیکن اُلٹا ز ہردے دیا جائے۔مگر ہم دیکھتے ہیں۔وہ دقبال بھی عجیب ہے کہ اس کا ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجتا ہو، آپ کی شان کو ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرتا ہو اور اسلام کی خدمت میں مشغول نہ ہو۔مسلمان کہلانے والوں کی تو یہ حالت ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے والوں ، آپ کو گالیاں دینے والوں ، اسلام پر حملے کرنے والوں سے بغل گیر ہوں۔مگر اس کی غیرت کا یہ حال ہو کہ پنڈت لیکھرام سلام کے لئے آیا اور وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتا اور اس طرف سے منہ پھیر لیتا ہے۔اس پر سمجھا جاتا ہے کہ آپ نے لیکھرام کو پہچانا نہیں اور بتایا جاتا ہے کہ پنڈت لیکھرام آپ کو سلام کرنے کے لئے آتے ہیں۔اس پر اس کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے اور کہتا ہے اس کو شرم نہیں آتی میرے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور مجھے سلام کرنے کے لئے آیا ہے، پھر جہاں کہیں کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے وہ اسی پر پل پڑتا ہے۔امریکہ میں ایک