انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 45

انوار العلوم جلد ۵ ۴۵ بھی کیا جاتا ہے۔محبت میں تو کچھ نظر ہی نہیں آتا۔حدیث میں آتا ہے کہ وہ پانی جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے صحابہ آپس میں لڑ پڑتے۔عبداللہ بن عمر حج کو جاتے ہوتے اسی جگہ پیشاب کرتے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج پر جاتے ہوئے کیا تھا۔آج کہا جائے گا کہ یہ بیہودہ بات تھی۔مگر محبت کا علم جاننے والے جانتے ہیں کہ جس سے محبت ہو اس کی ہر ایک بات پیاری لگتی ہے۔مگر کیسے افسوس کی بات ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کی اُمت بگڑ جاتے تو اس کی اصلاح کے لئے خدا تعالی کوئی انتظام نہیں کرتا۔پس اگر کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ چونکہ محمدصلی الہ علیہ سلم کی امت کے تمام لوگ ہمیشہ نیک اور پر سیر گار ہی رہیں گے اس لئے ان کی اصلاح کے لئے کسی مصلح کے آنے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بات صیحیح ہے تو واقع میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لئے کسی مصلح کی ضرورت نہیں ہوگی، لیکن اگر یہ نظر آتے کہ مسلمان کہلانے والوں نے نمازیں چھوڑ دی ہوں حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو لوگ عشاء کی نماز کے لئے مسجد میں نہیں آتے میرا دل چاہتا ہے کہ میں ان گھروں کو مع ان کے جلا کر راکھ سیاہ کر دوں۔اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا رحیم کریم انسان عشاء کی نماز کے لئے یہ فرماتا ہے تو دوسری نمازوں کے لئے خود سمجھ میں آسکتا ہے کہ ان کا پڑھنا کتنا ضروری ہے۔پس اگر لوگوں نے نمازیں چھوڑ دی ہیں اور زکواۃ جس کے متعلق حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ جو اونٹ کی رسی تک نہیں دے گائیں اس سے جہاد کروں گا اس کا دینا ترک کر دیا ہے اور اسی طرح شریعت کے دوسرے احکام کو چھوڑ دیا ہے تو پھر کیوں ان کے لئے کسی مصلح کی ضرورت نہیں ہے ؟ ہاں اگر مسلمان نہ بگڑتے تو ان کو کسی مصلح کی بھی ضرورت نہ ہوتی مگر جب ان کا بگڑنا ثابت ہے تو پھر یہ کیوں نہ مانا جائے کہ خدا تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لئے سامان بھی کیا ہو گا۔اگر نہیں کیا تو یہ ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو کسی مصلح کی ضرورت نہیں ہے۔مگر ہم کہتے ہیں یہ تو انگور کھتے ہیں والی مثال ہے۔جب ہر ایک شخص دیکھ رہا ہے حتی کہ دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سلمانوں کی حالت بگڑ چکی ہے توپھر یہ کہنا کہ ہیں کسی مصلح کی ضرورت نہیں اپنی بیہودگی کا ثبوت دینا ہے۔باقی رہا یہ کہ کوئی کسے اسلام میں مجدد اور نامور تو بے شک آئیں امکان نبوت کی اصلیت لیکن کوئی نبی نہیں آسکتا کیونکہ اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ علم بخارى كتاب الشروط - باب الشروط في الجهاد والمصالحة مع اهل الحرب وكتابة الشروط عه بخارى كتاب الاحكام - باب اخراج الخصوم واهل الريب من البيوت بعد المعرفة