انوارالعلوم (جلد 5) — Page 338
انوار العلوم جلد ۵ ۳۳۸ اسلام اور حمد بیت و مست خواجہ صاحب کا عجیب استدلال خواجہ صاحب نے اس آیت سے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ اس میں وَلا يُنفِقُونَهَا کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور نہیں خرچ کرتے اس سے یہ نہیں فرمایا کہ نہیں خرچ کرتے اس میں سے یا پس معلوم ہوا کہ سب مال خرچ کر دینا چاہئے۔اول تو یعنی بالبداہت غلط ہیں کیونکہ اس صورت میں اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ انسان جو کچھ کھائے اسے روز کے روز خرچ کرتا چلا جائے کیونکہ اگر وہ آج کی مزدوری میں سے کچھ رقم اس لئے رکھ لے گا کہ کل کام آوے گی تو یہ اس آیت کے خلاف ہوگا کیونکہ اپنی ذات کے لئے جمع کرنا اس میں منع کیا ہے۔اور اگر جمع بھی کرے تو پھر اس جمع شدہ میں سے اپنی ذات پر خرچ کرنا منع ہوگا۔لیکن اس بات کا دعویٰ خواجہ صاحب نہیں کرتے اور عقلاً بھی ایسے معنے کرنے محال ہیں۔پس اس کے یہ معنے ہو ہی نہیں سکتے۔باقی رہا يُنْفِقُونَها سے استدلال۔سو یہ استدلال بوجہ عربی زبان سے ناواقفیت کے ہے۔عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ گل اور بعض اور ایسے ہی عام الفاظ کو حذف کر دیا جاتا ہے اور کبھی عام الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں اور اس سے بعض حصہ مراد ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔جیسا کہ بنی اسرائیل کی نسبت فرماتا ہے وَجَعَلَكُمْ مُلوكاً (المائدة : ۲۱) اور تم کو بادشاہ بنا دیا۔حالانکہ سب بنی اسرائیل بادشاہ نہ تھے ان میں سے بعض بادشاہ تھے۔عرض هاسے یہ استنباط کرنا کہ سب مال تقسیم کر دینے کا حکم ہے۔درست نہیں کیونکہ عربی زبان کے قواعد کے مطابق کھا سے بعضا بھی مراد ہو سکتا ہے۔اور یہ ایک ایسا موٹا قاعدہ ہے کہ علوم عربیہ کے واقف کاروں میں سے ادنیا واقف بھی اس مسئلہ کو جانتا ہے۔اسلام میں تفرقہ کی ایک وجہ مال کا حسد تھی خواجہ صاحب نے اپنے مضمون میں مجھ پر یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ شروع زمانہ اسلام کے وجوہ تفرقہ میں جو میں نے یہ بات بیان کی ہے کہ صحابہ کے پاس مال دیکھ کر دشمنوں نے حسد سے ان پر اعتراض کئے اور لوگوں میں پھیلانا شروع کیا کہ یہ دوسروں کا حق مار کر مالدار ہو رہے ہیں یہ میری اختراع ہے۔مجھے ان کی اس تحریر کو پڑھ کر ان کی علمیت پر سخت تعجب اور حیرت ہوئی جس شخص کو تاریخ کا اس قدر علم بھی نہ ہو وہ ایسے مباحث پر لکھنے بیٹھے جن میں تاریخ کا علم ضروری ہے تو اس کی دلیری پر تعجب ضرور ہوتا ہے۔خواجہ صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے۔اس کی تائید کے لئے مختلف تاریخوں کی ورق گردانی کی بھی ضرورت نہیں۔صرف اس مشہور تاریخ کا حوالہ دینا