انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 337

۳۳ اسلام اور حرمیت و مساوات جو شخص ایسا نہیں کرتا خدا تعالیٰ کے حضور سزا کا ستحتی ہے جس جس قدر دین کی اشاعت کے لئے مال کی ضرورت پیش آئے۔اسی اسی قدر مال اس کی راہ میں دینا ہر مومن کا فرض ہے۔اگر اس آیت کے یہ معنے بھی کر لئے جائیں کہ اس سے عام لوگوں پر خرچ کرنا مراد ہے تو بھی اس امر کو ملحوظ رکھنا ہو گا کہ اس جگہ یک نرون" کا لفظ ہے اور کنٹر کرنا اور مال کا پاس رکھنا بالکل جداگانہ باتیں ہیں۔خواجہ صاحب نے خود اپنے مضمون میں علم الاقتصاد کا حوالہ دیا ہے پس ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ کنز کرنے کے معنے جوڑنے کے ہیں۔جسے انگریزی میں ہورڈنگ ( HOARDING ، کہتے ہیں اور اس کو تمام علم الاقتصاد کے ماہر ایک خطرناک عیب قرار دیتے ہیں۔لیکن باوجود اس کے مالدار ہونے کو کوئی عیب نہیں قرار دیتا اور جس شخص نے روپیہ کمایا ہے اس کو اس مال کے تقسیم کر دینے کی ہدایت نہیں کرتا۔ہمارے ملک میں بھی بخیل بُرا سمجھا جاتا ہے۔لیکن ہر وہ شخص جس کے پاس جائیداد ہو بخیل نہیں کہلاتا۔میں اگر اس آیت میں عام حکم ہے تو بھی اس میں روپیہ جوڑنے سے منع فرمایا ہے نہ کہ مال کی برابر تقسیم کا حکم دیا ہے۔اور اس میں کیا شک ہے کہ اسلام روپیہ جوڑنے سے منع فرماتا ہے اور اسی لئے شریعت نے زکوۃ کا حکم دیا ہے۔تاکہ کوئی شخص روپیہ نہ جوڑا کرے۔جو روپیہ جوڑے گا ساٹھ ستر سال کے عرصہ میں اس کا سب مال غرباء میں زکوۃ کے ذریعہ تقسیم ہو جائے گا پس مال جوڑنا شرعاً نا پسند ہے۔اور ایسا شخص جو مال جوڑتا ہے واقع میں اسلام کے خلاف کرتا ہے۔لیکن اگر کسی کا روپیہ تجارت میں لگا ہوا ہے یا زمینوں یا مکانوں پر۔تو ایسا شخص اگر زکوۃ ادا کرتا ہے اور غریبوں اور مسکینوں کی خبر گیری کرتا ہے تو اسے شریعت مجبور نہیں کرتی کہ وہ اپنا سب مال برابر حصہ کر کے غرباء میں تقسیم کر دے اور مساوات قائم کرے اور نہ اس کو گنگار قرار دیتی ہے غرض اگر اس آیت کا مفہوم عام ہے تو بھی اس میں روپیہ جوڑنے سے منع کیا ہے کیونکہ جو شخص روپیہ جوڑتا ہے وہ مال کو بیکار پڑا رہنے دیتا ہے اور اس سے دنیا کو نقصان پہنچتا ہے۔شریعت اسلام اس امبر کو پسند کرتی ہے کہ روپیہ کام پر لگا رہے تاکہ اس سے دوسرے لوگ بھی فائدہ اُٹھائیں۔مثلاً جو شخص روپیہ و پیه تجارت پر لگائے گا اس سے علاوہ لوگوں کو خرید و فروخت کے فائدہ کے یہ بھی فائدہ ہو گا کہ کئی لوگوں کی تجارت کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔کئی لوگ اس کے ہاں ملازم ہو سکیں گے۔مال کے بڑھنے سے اسے غریبوں کی مدد کرنے کا بھی زیادہ موقع ملے گا۔در حقیقت روپیہ کا جوڑنا ایک ایسا گندہ فعل ہے جو مسلمان کر ہی نہیں سکتا۔لیکن اس بات میں اور مال کو برابر تقسیم کرنے یا مالی مساوات قائم کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔