انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 339

۳۳۹ اسلام اور حریت و مساوات کافی ہے جو زمانہ اسلام کی تاریخوں کی مل کھلانے کی مشتق ہے یعنی طبری اس کتاب میں حضرت عثمان کے زمانہ کے اختلاف کی وجوہ میں یہ بات لکھی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کے حقوق کا پورا خیال رکھتے تھے۔مگر وہ لوگ جن کو اسلام میں سبقت حاصل نہ تھی چونکہ نہ تو صحابہ کے برابر عزت پاتے تھے اور نہ ان کے برابر اموال میں حصہ پاتے تھے اس پر ان لوگوں نے اس تفضیل پر گرفت شروع کر دی اور اسے ظلم قرار دینے لگے۔لیکن عامتہ الناس سے ڈر کر اپنے خیالات کو ظاہر نہ کرتے تھے صرف خفیہ طور پر یا نا واقف مسلمانوں میں یا آزاد شدہ غلاموں میں یہ باتیں پھیلاتے تھے۔اسی طرح طبری لکھتا ہے کہ حضرت ابو ذر غفاری کو ابن سوداء نے جوش دلا کر امراء کے خلاف کھڑا کیا تھا۔میں خواجہ صاحب گو یہ بات کہیں کہ یہ تاریخی شہادت کمزور ہے لیکن ان کے لئے یہ جائز نہیں کہ اس تاریخی شہادت کے وجود کا انکار ہی کر بیٹھیں کیونکہ یہ بات صرف ان کی جہالت پر دلالت کرے گی۔خواجہ صاحب اس امر پر بھی اعتراض کرتے ہیں کہ میں نے عضو کے عفو کے معنی اور تفاسیر معنی تفسیروں سے کیوں بیان کئے۔اس کا جواب یہ ہے کہ مجھے خواجہ صاحب کا مشرب معلوم نہ تھا۔چونکہ عام طور پر مسلمان تفاسیر سے باہر کوئی بات سننا پسند نہیں کرتے اس لئے میں نے تفاسیر کے حوالے دیئے۔ورنہ ہمارا علم کلام شاہد ہے اور دشمن سے مہمن بھی جانتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے تفاسیر کی قید سے آزاد ہیں۔ہم مفسرین کی خدمت کے مقر ہیں گھر جو ان کی بات درست ہو اس کو شکر گزاری سے اس کے بدلائل ثابت ہونے کے سبب سے لیتے ہیں اور جو ان کی بات غلط ہو اس کو رد کر دیتے ہیں اور اس کی بجائے خود مستقل تغییر کرتے ہیں۔مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تفاسیر کے بیان کو نقل کرنے سے میری مراد صرف ان کے خیالات بتانا ہی نہ تھی بلکہ عضو کے جو معنے ان لوگوں کے نزدیک ثابت ہیں ان کا بتانا بھی منظر تھا اور اس میں کیا شک ہے کہ عربی زبان کے متعلق اہل عرب کی تحقیق ہی ہمارے لئے خضر راہ بن سکتی ہے۔کسی چیز کے مستحق کے پاس اس چیز کا رہنا خواجہ صاحب نے اپنے اس مضمون میں مجھ پر مختلف اعتراض کرنے کے ساتھ ساتھ پھر اس امر پر زور دیا ہے کہ انسان چونکہ خلیفہ اللہ ہے اس لئے جو شخص جس چیز کامستحق ہے وہ اس کے پاس رہنی چاہئے۔میں بھی اس امر کوتسلیم کرتا ہوں کہ جو شخص جس چیز کا مستحق ہے وہ اس کے پاس رہتی چاہئے۔لیکن نہ تو انسان کے خلیفہ اللہ ہونے سے اس کے متعلق کوئی استدلال ہو سکتا ہے اور نہمستحق کے یہ معنے ہیں کہ مساوات کی جائے۔بلکہ ہر شخص جو جائز ذرائع سے مال کماتا ہے وہ اس کا مستحق ہے اور ماه تاریخ طبری جلد ۵ صفحه ۲۸۵۸ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء