انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 333

٣٣٣ اسلام اور حریت و مساوات میں نہیں پڑوں گا کہ کس حد تک ان احکام میں مساوات کو تسلیم کیا گیا ہے اور کن اصول کے ماتحت لیکن میں خواجہ صاحب کو دوبارہ ان کی اس غلطی پر آگاہ کر دینا چاہتا ہوں کہ کسی نظام کے اصول میں جو بات مد نظر رکھی جائے وہ بھی اس کے اصول میں شامل ہو جاتی ہے۔تمام انجنوں میں مبروں کی حیثیت برابر کی ہوتی ہے۔لیکن ان انجمنوں کے ممبروں سے پوچھ کر دیکھ لو وہ کبھی اپنی انجمن کے اصول میں مساوات کو بیان نہ کریں گے۔مثلاً انجمن حمایت اسلام ہے یا اور بہت سی اسلامی یا اگر یہ یا سکھوں کی مجالس ہیں۔ان سے جب اصول پوچھے جاویں گے تو وہ یہ بھی نہ کہیں گی کہ ہماری انجین کا بڑا اصل مساوات ہے۔بلکہ جس غرض کے لئے ان کو بنایا گیا ہے اس کا نام لیں گی۔غرض کسی نظام کے اصول اور ہوتے ہیں اور وہ باتیں جو نظام کے تیار کرتے وقت مد نظر رکھی جاتی ہیں اور ہوتی ہیں ان دونوں میں فرق نہ سمجھنے کے سبب سے خواجہ صاحب ایک حل نہ ہونے والے عقدہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔خواجہ صاحب نے خدا تعالیٰ کے متعلق خدا کو مطلق العنان او فضل کہتے ہیں فرق ملف الان" کا لفظ استعال کیا تھا می مطلق نے ان کو اس پر توجہ دلائی تھی کہ یہ لفظ خدا تعالیٰ کی نسبت استعمال کرنا جائز نہیں ، خواجہ صاحب اس پر دبی زبان میں اپنی غلطی کا اقرار کرتے ہوئے یہ بات پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں مفضل بھی ہے۔مجھے اس بات کو پڑھ کر خواجہ صاحب کی دینی واقفیت کی کمی پر افسوس آیا۔یہ بات ایسی موٹی ہے کہ ہمارے بچے بھی اس کا جواب دے سکتے ہیں۔اور جس نکتہ کو خواجہ صاحب نہایت باریک سمجھے ہوئے ہیں ہمارے ان پڑھ بھی اس سے واقف ہیں۔اگر خواجہ صاحب ذرا بھی غور کرتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ خدا تعالیٰ کی نسبت مطلق العنان کا لفظ استعمال کرنا اور اخلال کو اس کی طرف نسبت دینا دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اضلال کے معنے عربی زبان میں صرف گمراہ کرنے کے نہیں ہوتے بلکہ اس کے معنے گمراہی کی طرف منسوب کرنے کے اور ہلاک کرنے کے بھی ہوتے ہیں اور ہر ایک لفظ کے معنے اس شخص کی ذات کو مد نظر رکھ کر کئے جاتے ہیں جس کے لئے وہ استعمال کیا گیا ہو جیسے جبر کے معنے اصلاح کے بھی ہیں اور دوسرے کو ذلیل کر کے آپ عزت حاصل کرنے کے بھی ہیں جب خدا تعالیٰ کی نسبت یہ لفظ استعمال ہوگا تو اس کے معنے ہمیشہ اصلاح کے ہوں گے اور جب بندہ کی نسبت استعمال ہوگا تو ہمیشہ اس کا مطلب دوسروں کو دبا کر خود بڑائی حاصل کرنا ہوگا اسی طرح اضلال جب بندوں کی طرف منسوب ہو گا تو اس کے معنے اس کے مناسب حال ہوں گے اور جب خدا تعالیٰ