انوارالعلوم (جلد 5) — Page 332
انوار العلوم جلد ۳۳۲ اسلام اور حرمیت و مساوات الزام لگایا جائے کہ جب تم مذہبی مساوات کے قائل ہو تو کیوں مالی مساوات کے قائل نہیں ہو۔مذہب مال کی طرح نہیں کہ خرچ کرنے سے خرچ ہو جاتا ہو بلکہ مذ ہب اگر دوسروں کو پہنچایا جائے تو اصل چیز پہنچانے والے کے پاس ہی موجود رہتی ہے۔اور جس کو پہنچائی جاتی ہے وہ اگر دعوت کو قبول کرے تو اس کو اسی قسم کی اور چیز ل جاتی ہے نہ کہ وہ جو دعوت دینے والے کے پاس تھی۔پس مالی مساوات کو مذہبی مساوات پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے جو جائز نہیں۔علاوہ ازیں جس قسم کی مذہبی مساوات اسلام نے اسلام کی قائم کردہ مالی مساوات قائم کی ہے۔اس قسم کی مالی مساوات بھی قائم ہے۔اور اس سے کسی کو انکار نہیں یعنی جس طرح اسلام ہر ایک شخص کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ حق کو قبول کرے اسی طرح یہ بھی دعوت دیتا ہے کہ ہر ایک شخص اپنی فطرتی قوتوں سے کام لے کر دنیاوی ترقی بھی کرے اور جس طرح اسلام اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی کے اعمال کسی اور کی طرف منسوب کر دیے جائیں اسی طرح یہ بھی جائز نہیں رکھتا کہ کسی کا مال کسی کے حوالہ کر دیا جائے پس اول تو مذہبی امور کا قیاس من كل الوجوه مالی معاملات پر کیا ہی نہیں جاسکتا اور جس حد تک کیا جاسکتا ہے اس کا اس مسئلہ زیر بحث سے کوئی تعلق نہیں۔اور اس کے بیان کرنے خواجہ صاحب کا مدعا ثابت نہیں ہوتا۔میں نے اپنے مضمون میں قرآن کریم کی رو حریت اور مساوات اور اصول اسلام سے اصول اسلام لکھے تھے اور خواجہ صاحب ان کو تسلیم کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی اس امر پر بھی زور دیتے ہیں کہ سوائے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے باقی تمام اصول بالذات مقصود نہیں ہیں۔حالانکہ اس امر کا سوال ہی نہ تھا کہ کون سے اصول بالذات مقصود ہیں اور کون سے بالذات مقصود نہیں ہیں۔سوال تو یہ تھا کہ جو اصول قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں ان میں حریت و مساوات شامل نہیں ہیں اس بحث میں پڑ جانا کہ نبیوں کا ماننا یا نہ ماننا ، کتابوں کا ماننا یا ملائکہ کو ماننا بالذات مقصود ہے یا نہیں ایک لغو بحث ہے وہ بالذات مقصود ہوں یا نہ ہوں سوال تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو اصول اسلام قرار دیا ہے اور کسی کا حق نہیں کہ ان کے سوائے اپنے پاس سے اصول بنائے۔نماز روزہ وغیرہ احکام کو بھی اصول تسلیم کرتے ہوئے خواجہ صاب نماز روزہ میں مساوات لکھتے ہیں کہ ان میں بھی مساوات کو مد نظر رکھا گیا۔میں اس بحث