انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 334

انوار العلوم جلد ۵ ۳۳۴ اسلام اور تربیت ومساوات کی طرف منسوب ہوگا تو ہمیشہ اس کے معنے گمراہ قرار دینے یا ہلاک کرنے کے ہوں گے اور ان معنوں میں خدا تعالیٰ کی نسبت یہ لفظ استعمال کرنا نہ قابل اعتراض ہے نہ اس کے سمجھنے میں کوئی دقت۔لیکن مطلق العنان کا لفظ بالکل جدا گانہ حیثیت رکھتا ہے۔اس کے کوئی اچھے معنے نہیں ہیں۔نہ لغتاً نہ محاورہ۔پس اضلال پر اس کا قیاس نہیں کیا جا سکتا۔مساوات ہر جگہ جاری نہ ہونے کے متعلق اعتراض میں نے اپنے پہلے مضمون میں لکھا تھا کہ مساوات بلا دیگر امور پر نظر رکھنے کے ہر جگہ جاری نہیں ہوتی چنانچہ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم کی اولاد کی نسبت اللہ تعالے فرماتا ہے کہ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ التَّوَةَ وَالكتب (العنکبوت : ۲۸) خواجہ صاحب اس کے جواب میں مجھ پر دو اعتراض کرتے ہیں۔ایک تو یہ کہ میں نے اس استثناء کو ترک کر دیا ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔یعنی لَا يَنَالُ DWOANALALA TALK (البقرة : ۱۲۵ ) اور دوسرا اعتراض یہ کرتے عَهْدِى الظَّلِمِينَ ہیں کہ اگر اس آیت کے وہ معنی ہیں جو میں نے کئے ہیں تو پھر لِكُلِّ أُمَّةٍ رَسُولُ (یونس : ٢٨) کے کیا معنی ہوں گے۔یہ دونوں اعتراض بھی قلت تدبر کا نتیجہ ہیں۔پہلا اعتراض یہ کہ لَا يَنَالُ عَهْدِى الظلمین سے ظالموں کو مستثنیٰ کر دیا ہے اس لئے غلط ہے کہ اس جگہ یہ سوال نہ تھا کہ ابراہیم کی اولاد میں سے کس کو خدا تعالیٰ نہی بنائے گا۔بلکہ سوال یہ تھا کہ ایک عظیم الشان انعام اللہ تعالیٰ نے دوسری قوموں کے مقابلہ میں آل ابراہیم کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے۔پس اگر بعض اول ابراہیم بھی اس انعام سے محروم کر دئیے گئے ہیں تو اس سے خصوصیت میں فرق نہیں آتا۔ال ابراہیم کا امتیاز پھر بھی باقی ہے کہ ایک عظیم الشان انعام ان میں سے ایک فرد کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہے۔دوسرا اعتراض اس لئے غلط ہے کہ سب قوموں میں نبی آنے کے یعنی نہیں کہ ہمیشہ سب قوموں میں نبی آتے رہیں گے۔وعدہ ابراہیمی کے پورا ہونے کے وقت سے پہلے پہلے ہر ایک قوم میں نبی آچکے تھے مگر جب وعدہ ابراہیمی کے پورا ہونے کا وقت آیا تو یہ فیض الِ ابراہیم کے ایک فرد سے مخصوص کر دیا گیا۔اور اب ال ابراہیم کے فیض سے باہر ہو کر کوئی فیض نہیں۔پس وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ اُمَّةٍ رَسُولاً (النحل : ۳۷) کی آیت سے اس وعدہ الہی پر تب اعتراض پڑسکتا تھا کہ اگر حضرت ابراہیم ابتدائے عالم میں پیدا ہوئے ہوتے۔کیونکہ اس صورت میں اگر نبی ان ہی کی اولاد سے آتے تو باقی تمام اقوام اس فیض سے محروم رہ جاتیں۔یا یہ اعتراض تب پڑ سکتا تھا کہ اگر آئندہ فیض ایمان ان کی اولاد سے مخصوص کر دیا جاتا۔لیکن جب تمام اقوام عالم میں نبی مبعوث ہونے کے بعد آخری زمان میں محمدرسول اللہ